The news is by your side.

اب اقامہ کی آڑمیں چھپنےوالےمحفوظ نہیں رہ سکیں گے، شہزاد اکبر

اسلام آباد : وزیراعظم کےمعاون خصوصی برائےاحتساب شہزاداکبر  نے اعلان کیا ہے کہ اب اقامہ کی آڑمیں چھپنےوالےمحفوظ نہیں رہ سکیں گے،اقامہ کی آڑمیں  دبئی اور سوئس بینکوں میں چھپائی گئی رقم سامنےلائیں گے جبکہ سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ وہ لوگ جوملک کولوٹتےرہےاب نہیں بچ پائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کی ، پریس کانفرنس سینیٹرفیصل جاوید نے کہا اقامہ کے پیچھے کیا ڈرامہ تھا پتہ چلالیا ہے، کرپشن اور منی لانڈرنگ سےمتعلق انکشافات ہوئےہیں، این آراو مانگنے والوں کوکچھ نہیں ملا،شہزاد اکبر کو بہت کچھ مل گیا ہے۔

فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ ایک وہ لوگ ہیں جو20،20سال سےوہاں مقیم ہیں ،وہ اقامہ لیتےہیں، دوسرےوہ ہیں جو کرپشن میں ملوث ہیں وہ اقامہ لیتےہیں، وہاں کا اقامہ لے کر کرپشن کرنے والے تحقیقات کے ریڈار سے باہر ہوجاتے ہیں، اقامہ لینے کا مقصد ہوتا ہے کس طرح کرپشن کی تحقیقات سےبچنا ہے۔

وہ لوگ جوملک کولوٹتےرہےاب نہیں بچ پائیں گے

پی ٹی آئی سینیٹر نے کہا وہ لوگ جوملک کو لوٹتے رہے اب نہیں بچ پائیں گے، کرپشن کرنے والے اقامہ لے کر تحقیقات کے ریڈار سے باہر ہوجاتے ہیں، اس سے پہلے کسی حکومت نے منی لانڈرنگ پر ہاتھ نہیں ڈالا، حکومت میں شامل افراد ہی منی لانڈرنگ میں ملوث رہے۔ کرپشن میں ملوث لوگوں نے کبھی منی لانڈرنگ پر ہاتھ نہیں ڈالا اور کبھی منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائی ہی نہیں کی جاسکی۔

ان کا کہنا تھا کہ اب حکومت 24ہزارارب کا حساب لے گی، 24 ہزار ارب روپے کہاں لگا ،حکومت حساب لے رہی ہے، ہمارا مقصد ہے پاکستان کے غریب افراد کی بہتری ہے، ہم پہلے100 دن میں ہی بڑی بڑی چیزیں عوام کے سامنے لارہے ہیں، ہمارے پاس چوری اور کرپشن ختم کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ْ

فیصل جاوید نے کہا کہ مخیرحضرات عمران خان کی سب سے زیادہ مدد کرتے ہیں، لوگ اعتماد کر رہے ہیں،زرمبادلہ میں نئے ریکارڈ قائم ہوئے ہیں، پاکستان  پر اعتماد بحال ہوگا تو لوگ ہماری مدد کریں گے۔

اپوزیشن والےگھبرائےہوئےہیں احتساب کاخوف ہے

رہنما تحریک انصاف کا محالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ شہباز شریف، خورشید شاہ، فضل الرحمان کے چہروں پرگھبراہٹ ہے،مولانا فضل الرحمان گھبرا رہے ہیں ان کو پتہ ہے احتساب سے بچنے کا راستہ نہیں ملے گا۔

انھوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کیونکہ ان کا اپناریکارڈ ہے، اپوزیشن والے گھبرائے ہوئے ہیں، احتساب کا خوف ہے، ہمارا ان کے چارٹر آف ڈیموکریسی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، اپوزیشن کا تو مک مکا تھا،باریاں لگی ہوئی تھی، پی اے سی چیئرمین ایسا شخص ہونا چاہیے،. جس پر کوئی الزام نہیں ہو، یہ کیا طریقہ ہے کہ چوری کی تحقیقات کی لیے چور کو کمیٹی کا سربراہ بنا دیا جائے۔

اب اقامہ کی آڑمیں چھپنےوالےمحفوظ نہیں رہ سکیں گے، شہزاداکبر


وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاداکبر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہماری حکومت آنے کے بعد4.7ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں، ایک اقامہ ملک سے لوٹی دولت باہر بھیجنے کے لیے لیا جاتا ہے، ہم اقامہ ہولڈرز کی معلومات سرکاری اوراپنے طور پر لے رہے ہیں، اقامہ رکھنے کا مقصد لوٹی ہوئی دولت کو چھپانا ہے، وزیراعظم، وزیر داخلہ عہدوں کے لوگ بھی اقامے لیتے ہیں۔

شہزاد اکبرنے کہا اب اقامہ کی آڑمیں چھپنےوالےمحفوظ نہیں رہ سکیں گے، ایک اقامہ مزدوری اوردوسرالوٹی دولت رکھنےکیلئےلیاجاتاہے، اقامہ کی آڑمیں دبئی اور سوئس بینکوں میں چھپائی گئی رقم سامنےلائیں گے، اقامہ رکھنے والوں کی تفصیلات کے لیے کارروائی شروع کردی ہے۔

اقامہ کی آڑمیں دبئی اور سوئس بینکوں میں چھپائی گئی رقم سامنےلائیں گے

وزیراعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ نے پاکستان کی معیشت کو تباہ کردیا ہے ابھی پہلے ہم بڑے مگرمچھوں کے پیچھے جارہے ہیں، رقم 700ارب بنتی ہے ، ابتدائی طور پر 10لاکھ ڈالر سے زیادہ اثاثے رکھنے والوں کو گرفت میں لارہےہیں۔

انھوں نے کہا دبئی میں پاکستان تیسرابڑاملک ہےجوریئل اسٹیٹ میں انویسٹمنٹ کرچکاہے ،اس کا مطلب پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے دبئی میں پراپرٹی خریدی ہے، ہمارےپاس جو ڈیٹا ہے، اسے فلٹر کرکے مطلوبہ افراد تک پہنچ رہے ہیں۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ لوگوں نے اپنے ملازمین کے نام پر جائیدادیں بنائی ہوئی ہیں، مالی، باورچی اور ڈرائیور کے ناموں پر کالا دھن چھپایا گیا ہے، جب ہم تحقیقات کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے، جائیداد کسی چھوٹے آدمی کے نام ہے، 1.3 ارب کی رقم پاکستان سے منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر گئی، ہمارے پاس رکشے اور فالودےوالے کے کیس بھی شامل ہیں۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا پانچ ہزار سے زائد جعلی اکاؤنٹس ملے ہیں، رکشے والے اور فالودے والے کے نام پرمنی لانڈرنگ کی گئی ہے، 5ہزار سے زائد جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے ایک ارب ڈالرسے زائد باہر بھیجے گئے، ایک مسیحا لوگوں کے اکاؤنٹ میں پیسہ ڈال جاتا ہے اور ٹی وی پربیٹھ کر دندناتا ہے، ثابت کرو، صرف دبئی میں پاکستانیوں کی
15 ارب ڈالر کی پراپرٹیزہیں، ابھی ہم نے صرف دبئی کی بات کی ہے، مکمل یواے ای کی بات نہیں کی۔

پانچ ہزار سے زائد جعلی اکاؤنٹس ملے ہیں، ایک مسیحالوگوں کےاکاؤنٹ میں پیسہ ڈال جاتاہےاورٹی وی پربیٹھ کردندناتاہےثابت کرو

ان کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کا معاملہ ابھی سپریم کورٹ میں چل رہا ہے، اس لیےابھی کچھ تذکرہ نہیں کرسکتے، رپورٹس سپریم کورٹ میں پیش ہو رہی ہیں، ملزمان کی فہرست بھی جلد سامنے آئے گی، معاملہ سپریم کورٹ میں تکمیل کے مراحل ہیں جلد تفصیلات سامنےآئیں گی۔

ہل میٹل کے حوالے سے شہزاد اکبر نے کہا ہل میٹل کاکیس تکمیل کے مراحل میں ہیں سب کچھ واضح ہوجائے گا، انفارمیشن عوام کا حق ہے،حکومت کی جانب سے کچھ نہیں پوچھا جائے گا، ہل میٹل کا پیسہ نوازشریف کے پاس واپڈا ٹاؤن لاہور کے اکاؤنٹ میں آرہا ہے، ہل میٹل ایک ایسی بابرکت فیکٹری تھی جس سے یہاں بھی پیسہ بھیجا گیا اور وہاں جائیدادیں بھی خریدی گئیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کی رقم چھپانے کے لیے جن ممالک کا استعمال کیا گیا ان کی فہرست بھی نکال لی، پیسوں کو فریز کرنے کے لیے کچھ ممالک میں قانونی تقاضوں پر بات جاری ہے، قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد کچھ مگر مچھوں کے پیسے سیز ہونا شروع ہوجائیں گے۔

انھوں نے کہا جےآئی ٹی نے پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کی ہیں، سپریم کورٹ کا کردار بھی اہم رہا کیونکہ انہوں نے ان کیسز کے لپیئ جے آئی ٹی بنائی، حکومتی مشینری اداروں کو کام کرنے دے رہی ہے اور مکمل معاونت ہے۔

سوئس بینکوں میں موجود رقم پرجلد قوم کو خوشخبری سناؤں گا،

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں ایک خاتون کی بڑی شاپنگ کی چرچا ہوئی  تھی، ہمارےہاں بھی ایسے بڑے لوگ ہیں جو تھری جی لائسنس کے کمیشن کھا کر بیٹھے ہیں، سوئس بینکوں میں موجود رقم پر جلد قوم کو خوشخبری  سناؤں گا، جو رقم بتائی ہے اس میں سوئس بینکوں کا ڈیٹا شامل نہیں ہے،  سوئس بینکوں کا ڈیٹا شامل کیا گیا تو اس رقم کا حجم بہت زیادہ بڑھ جائے گا، سوئس حکام اس ماہ کے آخر میں ملاقات متوقع ہے، جلد خوشخبری دوں گا۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا تمام ادارے کام کر رہے ہیں اور مکمل فعال ہے، اقدامات نظر بھی آرہے ہیں، ایم کیوایم منی لانڈرنگ کیس میں ثبوت نیشنل کرائم ایجنسی سے شیئرکئے ہیں اور کیس برطانیہ نے پک اپ کرلیا ہے، جن کیسز کی  تفصیلات آتی رہیں گی ان کے نام ای سی ایل پربھی ڈالےجائیں گے، ای سی ایل پرنام ڈالنے سے متعلق اپنا ایک طریقہ کارہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں