خیبرپختونخواہ: خاتون رکن اسمبلی پر نازیبا جملے، صوبائی وزیر نے معافی مانگ لی KP Assembly
The news is by your side.

Advertisement

خیبرپختونخواہ: خاتون رکن اسمبلی پر نازیبا جملے، صوبائی وزیر نے معافی مانگ لی

پشاور: خیبرپختونخواہ اسمبلی اجلاس کے دوران خاتون رکن اسمبلی نگہت اورکزئی پر نازیبا جملے کسنے والے صوبائی وزیر شاہ فرمان نے اپنے رویے پر معافی مانگ لی۔

تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخواہ اسمبلی کے اجلاس میں تلخ کلامی کے بعد شاہ فرمان نے سخت لہجے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والی خاتون رکن اسمبلی نگہت اورکزئی کو تیز آواز میں خاموش رہنے کا کہا اور غصہ کم نہ ہوا تو تضحیک آمیز لفظ کہہ دیا۔

اسمبلی اجلاس کے دوران جیسے ہی فنڈ کی تقسیم پر بات شروع ہوئی تو نگہت اورکزئی نے صوبائی وزیر کی بات کے دوران کہا کہ ’’ترقیاتی فنڈ کا زیادہ حصہ نوشہرہ کو دیا جارہا ہے جو بالکل غلط ہے‘‘۔

خاتون رکن اسمبلی کی آواز بلند ہونے پر شاہ فرمان غصے میں آگئے اور انہوں نے چیخ کر خاموش رہنے کو کہا تاہم جب نگہت اورکزئی خاموش نہ رہ سکیں تو انہیں کالے منہ والی کہہ کر مخاطب کیا۔

اجلاس کے بعد صوبائی وزیرکو اپنے ادا کیے گئے الفاظ پر ندامت کا احساس ہوا تو  انہوں نے اپنے رویے پر معافی مانگتے ہوئے کہاکہ میرا مقصدکسی کی دل آزاری کرنانہیں تھا، خواتین کی دل سےعزت کرتاہوں، اگر خاتون کی دل آزاری ہوئی توالفاظ واپس لیتاہوں۔

تحریک انصاف کے ممبر صوبائی اسمبلی کی جانب سے تضحیک آمیز رویے پر بلاول بھٹو نے پوری جماعت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ’’اسمبلی فلور پر اس طرح کے الفاظ کی ادائیگی قابل مذمت ہے۔ انہوں نے عمران خان سے اپیل کی کہ وہ اس رویے کا سختی سے نوٹس لیں۔

بعد ازاں عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنی ہی جماعت کے رکن اسمبلی کے رویے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارا مذہب اور کلچر خواتین کے ساتھ اس طرح کے رویے کی کسی صورت اجازت نہیں دیتا، شاہ فرمان نے معافی مانگ لی تاہم آئندہ اس طرح کی بات ہوئی تو سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی‘‘۔

خاتون رکن اسمبلی کے ساتھ تضحیک آمیز رویے پر سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر لوگوں نے صوبائی وزیر کے الفاظ کی شدید الفاظ میں مذمت بھی کی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں