اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی کے بیٹے کا بلیو پاسپورٹ پر اٹلی جا کر سیاسی پناہ لینے کا انکشاف سامنے آیا۔
تفصیلات کے مطابق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے بیٹے کی جانب سے آفیشل (بلیو) پاسپورٹ پر اٹلی جا کر سیاسی پناہ لینے کا انکشاف کیا۔
یہ معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں زیرِ بحث آیا، جہاں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کمیٹی کو بتایا کہ اقبال آفریدی کے بیٹے نے سرکاری طور پر جاری کردہ بلیو پاسپورٹ پر اٹلی کا سفر کیا اور وہاں پہنچ کر پناہ کی درخواست دے دی۔ ایسے اقدامات عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلیو پاسپورٹ کے غلط استعمال کی وجہ سے دیگر ممالک پاکستان کے ساتھ معاہدے کرنے سے کتراتے ہیں۔ اب حکومت نے ڈپلومیٹ اور بلیو پاسپورٹس کے اجرا میں سختی کر دی ہے اور ان کی تعداد کم کی جا رہی ہے۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ موجودہ قانون کے تحت افسران کے 28 سال تک کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ ملتا ہے، جس کا ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔
بعد ازاں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی نے اپنے بیٹے کے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا اگر ان کے بیٹے نے اسائلم (پناہ) لیا ہے تو اس میں کوئی انوکھی بات نہیں، اس سے پہلے بھی لوگ ایسا کرتے رہے ہیں۔
اقبال آفریدی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ملٹی نیشنل کمپنیاں کام چھوڑ کر جا رہی ہیں، سیاسی عدم استحکام عروج پر ہے اور بانی پی ٹی آئی کو ناحق قید رکھا گیا ہے۔
انہوں نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی لہر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے اقدامات کو "ڈرامہ” قرار دیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


