اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں 2 ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کشیدگی پیدا ہوگئی جس کے بعد اجلاس منسوخ کر دیا گیا۔
اجلاس کے دوران نئے پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک اور سینیٹر ڈاکٹرز زرقہ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
شاہد خٹک نے سینیٹر زرقہ کی موجودگی پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ "ڈاکٹرز زرقہ 26 ویں ترمیم پر کمپرومائز ہوئی ہیں، یہاں نہیں بیٹھنے دوں گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "اجلاس میں ڈاکٹرز زرقہ بیٹھیں گی یا میں بیٹھوں گا۔” احتجاج کے بعد شاہد خٹک اجلاس چھوڑ گئے اور کئی ارکان بھی ان کے ساتھ چلے گئے۔
اس کشیدگی کے بعد سینیٹر زرقہ نے الگ گفتگو میں کہا کہ "میں عزت دار خاتون ہوں، بس اب اور برداشت نہیں کروں گی۔ اجلاس میں گھمن اور ریاض فتیانہ بھی موجود تھے لیکن نشانہ صرف مجھے بنایا گیا۔ جس پارٹی کے ساتھ ہوں وہیں رہوں گی۔”
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی قیادت کو واضح پیغام بھیجا ہے کہ انہیں پارٹی سے نکال دیا جائے یا کلیئر کیا جائے۔
سینیٹر زرقہ نے شاہد خٹک کی شخصیت کو متاثر کن قرار دیا اور کہا کہ "شاہد خٹک اچھا انسان ہے، اس کا قصور نہیں، میں اس کی عزت کرتی ہوں۔” تاہم انہوں نے واضح کیا کہ "شاہد خٹک میرا پارلیمانی لیڈر نہیں، میرا پارلیمانی لیڈر علی ظفر ہیں۔”
سینیٹر زرقہ نے مزید کہا کہ وہ ہر طرف سے نشانہ بنائی جا رہی ہیں، پروفیشنل اور پڑھی لکھی خاتون ہیں، پانچ براعظموں میں کام کر چکی ہیں، اور بیرسٹر گوہر سے ملاقات کے لیے 100 مرتبہ درخواست دے چکی ہیں مگر وقت نہیں ملا۔
انہوں نے کہا کہ "شوکاز نوٹس کا جواب بھی دے چکی ہوں، اب میرے لیے یہ ایک آزمائش ہے۔”
دوسری جانب شاہدخٹک کا کہنا تھا کہ سینیٹر زرقا کو آئندہ اجلاس میں بھی بیٹھنےنہیں دیا جائے گا، جوبانی پی ٹی آئی کےنظریےکےساتھ نہیں وہ ہمارےساتھ بھی نہیں۔
خیال رہے سینیٹر زرقہ کا 26 ویں ترمیم کے وقت پارٹی سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔
عبدالقادر پچھلے 8برس سے اے آر وائی نیوز میں بطور سینئر رپورٹر خدمات انجام دے رہے ہیں، آپ وزیراعظم عمران خان اور حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف سے جڑی خبروں اور سیاسی معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔


