The news is by your side.

Advertisement

بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف تحریک انصاف کا پیسکو کے باہر دھرنا

پشاور: صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں پاکستان تحریک انصاف بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی۔ مظاہرین پیسکو کے دفتر کے باہر دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔

تفصیلات کے مطابق پشاور میں پاکستان تحریک انصاف لوڈ شیڈنگ کے خلاف سراپا احتجاج بن کر سڑکوں کر نکل آئی۔ مظاہرین نے واپڈا ہاؤس کے سامنے سخت احتجاج کیا اور گو نواز گو کے نعرے لگائے۔

اس دوران کچھ مظاہرین واپڈا ہاؤس کا پہلا گیٹ توڑ کر اندر داخل ہوگئے۔ مظاہرین کی ایک بڑی تعداد واپڈا ہاؤس کے باہر بھی جمع ہے جن کی قیادت تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی کر رہی ہیں۔

بعد ازاں مظاہرین پیسکو کے دفتر کے باہر دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔

پیسکو چیف خود مذاکرات کریں

مظاہرین کی جانب سے دھرنے کے بعد واپڈا کے 2 افسران نے مذاکرات کی کوشش کی تاہم مظاہرین نے مذاکرات سے انکار کردیا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ صرف واپڈا یا پیسکو چیف سے مذاکرات کریں گے۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کی رہنما عائشہ گلالئی نے کہا کہ واپڈا حکام کی فرعونیت نہیں چلے گی۔ عوام 18 سے 20 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا عذاب سہہ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کے لیے پینے کا پانی نہیں، کارخانے بند ہو رہے ہیں جبکہ واپڈا والوں کے گھروں میں مفت بجلی استعمال ہوتی ہے۔ واپڈا حکام عوام کے سامنے آئیں۔

کنڈوں کی وجہ سے بجلی کا خسارہ

مظاہرے کے دوران تحریک انصاف کے ضلعی ناظم حکام سے مذاکرات کے لیے دفتر کے اندر چلے گئے۔ مذاکرات کے دوران پیسکو حکام نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ 18 گھنٹے لوڈ شیڈنگ والے علاقوں میں خسارہ 70 سے 100 فیصد ہے۔

ترجمان پیسکو کے مطابق پشاور کے علاقے جھنڈو خیل میں کنڈوں کی وجہ سے خسارہ 80 فیصد ہے۔ لوگ میٹر لگوائیں تو ان علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کم کی جاسکتی ہے۔

مظاہرین کا دھرنا تاحال جاری ہے۔ ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے واپڈا ہاؤس کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: ایم این اے عائشہ گلالئی کا گدھا گاڑی پر احتجاج

یاد رہے کہ عائشہ گلالئی نے گزشتہ روز بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر وفاقی حکومت کے خلاف گدھا گاڑی پر احتجاج کیا تھا۔

انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ کل صبح 9 بجے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے ساتھ بڑا احتجاج کریں گی اور واپڈا ہاؤس کا گھیراؤ کریں گی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں