پشاور (4 اکتوبر 2026): پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسف زئی نے کہا ہے کہ حکومت نے مذاکرات میں ڈیڈ لاک پیدا کر کے مایوس کیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق حکومت اور پی ٹی آئی میں مذاکرات کی ناکامی پر پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات اور ترجمان شوکت یوسف زئی نے کہا ہے کہ حکومت نے مذاکرات میں ڈیڈ لاک پیدا کر کے مایوس کیا، تاہم اپوزیشن نے مذاکرات کر کے اچھا کیا، وفاقی حکومت بے نقاب ہو گئی۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو ملک کو دلدل سے نکالنے کے لیے لچک دکھانی چاہیے تھی، لیکن لگتا ہے کہ حکومت کے پاس دہشتگردی اور معاشی مشکلات سے نکلنے کیلیے کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔ حکمران ہوش کے ناخن لیں کیونکہ ضد اور انا سے ملک نہیں چلتے۔
شوکت یوسف زئی نے کہا کہ تحریک انصاف کے مطالبات آئینی اور قانونی ہیں۔ حکومت نے جان بوجھ کر مذاکرات ناکام بنائے، اسے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت دینی چاہیے تھے۔ پہلے کہتے تھے پی ٹی آئی مذاکرات نہیں کرتی، اب حکومت بھاگ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک قرضوں میں ڈوبا ہے، عوام پریشان ہیں، لیکن حکمرانوں کو کوئی پروا نہیں۔ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے سے حالات مزید خراب ہوں گے۔
پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن کی سب سے زیادہ ضرورت یہاں کےعوام کو ہے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں خیبر پختونخوا فرنٹ لائن صوبہ ہے۔ وفاقی حکومت کو دہشت گردی ختم کرنے کیلیے صوبائی حکومت کے ساتھ ملکر حکمت عملی بنانی چاہیے۔
شوکت یوسف زئی نے یہ بھی کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ آج سے شروع ہوگا، جو اپوزیشن کے مطالبات تسلیم ہونے تک جاری رہے گا۔ اب حالات خراب ہوئے تو اس کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہوگی۔
سہیل آفریدی کا آج سے اسلام آباد لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان، روٹ بھی جاری کر دیا


