The news is by your side.

Advertisement

ہارس ٹریڈنگ میں کون ملوث ہے؟ عبدالسلام آفریدی کے جواب میں تہلکہ خیز انکشافات

اسلام آباد: سینیٹ الیکشن میں ووٹوں کی خریدو فروخت سے متعلق منظر عام پر آنے والی واٹس ایپ چیٹ کے مرکزی کردار نے اپنے جواب الیکشن کمیشن میں جمع کرادیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ الیکشن میں ووٹوں کی خریدو فروخت کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے ثبوت طلب کئے تھے اور مردان سے تعلق رکھنے والے
تحریک انصاف کے رکن اسمبلی عبدالسلام آفریدی کو ثبوتوں کے ساتھ الیکشن کمیشن میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔

الیکشن کمیشن کے ہدایت پر تحریک انصاف کے عبدالسلام آفریدی آج الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے اور ایوان بالا کے الیکشن میں مبینہ دھاندلی سے متعلق اپنا جواب جمع کرایا۔

تحریری جواب میں عبدالسلام آفریدی نے بتایا کہ سینیٹ الیکشن سے ایک دن قبل غیرملکی نمبر سےپیغام ملا، پیغام میں پی پی امیدوار کو ووٹ کے عوض 8 کروڑ کی آفرکی گئی، پیغام بھیجنے والے شخص نے اپنا نام عادل شاہ بتایا۔

یہ بھی پڑھیں:  سینیٹ ووٹ‌ کی خرید و فروخت، واٹس ایپ چیٹ‌ بھی سامنے آگئی

عبدالسلام آفریدی نے اپنے تحریری جواب میں کہا کہ پیغام کے بارے میں وزیراعلیٰ کو فوری آگاہ کیا، وزیراعلیٰ نے مشکوک شخص کی پہچان کیلئے رابطہ جاری رکھنے کی ہدایت کی، چیٹ میں مشکوک شخص نے پیپلز پارٹی کےرکن اسمبلی احمد کنڈی کابھی نام لیا اور مزید اراکین کو بھی آٹھ کروڑ دینے کی پیشکش کی گئی۔

الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں رکن کے پی اسمبلی نے بتایا کہ عادل شاہ نے مزید دو اراکین اسمبلی سےبھی ڈیل مکمل ہونےکاانکشاف کیا، عادل شاہ نےکوہاٹ سے ن لیگ کے امیدوار عباس آفریدی سےملاقات کی آفرکی، پارٹی کو شکست سےبچانےکیلئے گفتگو کو میڈیا کےسامنے لایا۔

تحریری جواب میں کہا گیا کہ عادل شاہ، عباس آفریدی اور احمد کنڈی کرپشن اورہارس ٹریڈنگ میں ملوث ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں