پی ٹی ایم رہنماؤں کی پارٹی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی، نائب افغان سفیر سے ملاقات -
The news is by your side.

Advertisement

پی ٹی ایم رہنماؤں کی پارٹی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی، نائب افغان سفیر سے ملاقات

اسلام آباد: خیبر پختونخوا اور سابقہ فاٹا سے تعلق رکھنے والی مزاحمتی تحریک پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے دو رہنماؤں کے افغانستان سے تعلقات کھل کر سامنے آگئے۔

تفصیلات کے مطابق پی ٹی ایم کے 3 میں سے 2 رہنماؤں نے پارٹی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسلام آباد میں افغانستان کے نائب سفیر شمس زردشت کے ساتھ ملاقات کی۔

پارٹی کے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں میں پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما علی وزیر اور محسن داور شامل ہیں۔

دوسری طرف کراچی میں جواں سال نقیب اللہ محسود کے قتل کیس میں سابق ایس ایس پی ملیر راﺅ انوار کو ذمہ دار ٹھہرانے والوں نے پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی قربتیں بڑھانا شروع کر دی ہیں۔

سابق پولیس افسر راؤ انوار کے خلاف سرگرم پی ٹی ایم کے بعض رہنماؤں نے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ سے ملاقات کی، خیال رہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری کھلے عام راؤ انوار کی حمایت میں بیان دے چکے ہیں۔

اہم پیشرفت: ریاست اور اداروں کے خلاف نعرے نہیں لگیں گے، پشتون تحفظ موومنٹ کی یقین دہانی

پشتون تحفظ موومنٹ کے خلاف یہ خیال گردش کرنے لگا ہے کہ کیا اس کے رہنما ذاتی مفادات کے لیے پارٹی کا استعمال کرنے لگے ہیں۔

واضح رہے کہ پی ٹی ایم کے رہنما انتخابات کے سلسلے میں بھی پارٹی کے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کر چکے ہیں، 8 رہنماؤں نے انتخابات 2018 میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا، جس پر انھیں کور کمیٹی کی رکنیت سے فارغ کر دیا گیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں