The news is by your side.

Advertisement

پی ٹی وی ایم ڈی تقرری کیس: معاملہ نیب کو بھجوانے کا عندیہ

اسلام آباد: پاکستان ٹیلی ویژن کے ایم ڈی تقرری کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے عندیہ دیا کہ ہو سکتا ہے یہ معاملہ قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھجوا دیں۔ عطا الحق قاسمی کو 15 لاکھ دینے کا کیا جواز تھا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں پاکستان ٹیلی ویژن کے مینجنگ ڈائریکٹر کی تقرری کے کیس کی سماعت ہوئی۔

سابق سیکریٹری خزانہ وقار مسعود نے عدالت میں کہا کہ میں نے بیان حلفی جمع کروا دیا ہے، عطا الحق قاسمی کی ماہانہ 15 لاکھ تنخواہ پر میں نے اعتراض اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ 27 کروڑ روپے کا منظور شدہ پیکج سے کوئی تعلق نہیں، 27 کروڑ کے بجائے 54 ملین کا کل پیکج ہے۔ 27 کروڑ کے پیکج میں دیگر چیزیں بھی شامل کی گئی ہوں گی۔

ریسرچر پی ٹی وی جویریہ قریشی نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ قابل شخص کی تقرری کرے، پی ٹی وی کا گزشتہ 5 سال کا آڈٹ کروایا جائے۔

مزید پڑھیں: ایم ڈی پی ٹی وی تقرری کیس میں سابق وزیر اطلاعات عدالت میں پیش

چیف جسٹس نے کہا کہ فواد حسن فواد کہتے تھے وزیر اعظم سیکریٹریٹ کا کوئی لینا دینا نہیں، مقدمہ مزید تحقیقات کا تقاضا کرتا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ابھی رقم واپس ہوجاتی ہے تو مقدمہ نیب کو نہ بھجوایا جائے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے عطا الحق قاسمی کو اسی لیے طلب کیا تھا۔

عدالت نے عطا الحق کی وزیر اعظم سیکریٹریٹ اور وزارت خزانہ کو بھیجی گئی سمری طلب کرلی۔

اس دوران چیف جسٹس آبدیدہ ہوگئے اور کہا کہ بچوں کو تعلیم اور دوائیاں نہیں مل رہیں، کرپشن کے ناسور کو ختم کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہوگا۔

انہوں نے پوچھا کہ کیا اسحٰق ڈار تشریف لائے ہیں؟ سیکریٹری داخلہ بتائیں اسحٰق ڈار کو کیسے واپس لانا ہے۔ مقدمے میں بیشتر لوگوں کے دلائل مکمل ہو چکے ہیں۔

سابق سیکریٹری اطلاعات نے کہا کہ تقرری کی سمری میری جانب سے نہیں بھیجی گئی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا عطا الحق قاسمی کو 15 لاکھ دینے کا جواز تھا، ہو سکتا ہے یہ معاملہ نیب کو بھجوا دیں۔ تقرری قانونی تھی یا غیر قانونی فیصلہ کریں گے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ عطا الحق قاسمی رقم واپس کردیں تو کیس ختم ہوجائے گا جس پر ان کے وکیل نے کہا کہ عطا الحق قاسمی رقم واپس نہیں کریں گے انہوں نے اپنے انٹائٹلمنٹ کے مطابق مراعات لیں۔

سپریم کورٹ میں ایم ڈی پی ٹی وی تقرری کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں