بجٹ 19-2018، عوام حکومت سے کیا چاہتے ہیں؟ مطالبات سامنے آگئے
The news is by your side.

Advertisement

بجٹ 19-2018، عوام حکومت سے کیا چاہتے ہیں؟ مطالبات سامنے آگئے

کراچی: وفاقی حکومت آج آئندہ مالی سال 19- 2018 کے لیے بجٹ پیش کرنے جارہی ہے، عوام حکومت سے کیا ریلیف چاہتے ہیں؟ اس ضمن میں اے آر وائی نیوز نے صارفین کی آراء حاصل کیں۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کی حکومت کل چھٹا اورآخری بجٹ پیش کرنے جارہی ہے جس پر اپوزیشن کی مختلف جماعتوں کی جانب سے تنقید بھی جاری ہے کیونکہ بعض سیاسی رہنماؤں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومتی مدت آئندہ ماہ ختم ہورہی ہے، ایسے میں مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

اے آر وائی نیوز نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اور عوام کو پلیٹ فارم فراہم کیا کہ وہ اپنی آواز حکمرانوں تک پہنچائیں، عوام نے جہاں حکومت سے مختلف مطالبات کیے وہیں مفت تعلیم، لوڈ شیڈنگ، پڑھے لکھے نوجوانوں کو ملازمتوں کے نئے، لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے ساتھ ضروریات زندگی فراہم کرنے پر زور دیا۔

مزید پڑھیں: حکومتی اقتصادی سروے 2017-18 جاری، ترقی کی شرح 5.8 فیصد، غربت میں کمی

جن صارفین نے مطالبات پیش کیے انہیں اے آر وائی نیوز حکمرانوں تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کرے گا تاکہ جمہوری حکومت عوامی مسائل کو حل کرسکے۔

عائشہ ظہیر نامی صارف کا کہناتھا کہ ’ٹیکس کم اور غریبوں کو تعلیم کی سہولت آسان و یقینی بنائی جائے، بے روزگار افراد کو مواقع فراہم کیے جائیں اس کے علاوہ خواجہ سراؤں کو بھی برابر کے حقوق ملنے چاہیں‘۔

عبدالوہاب نامی صارف کا کہنا تھا کہ ’بجٹ جون میں بنتا ہے اور حکومت کی مدت مئی میں ختم ہورہی ہے، موجودہ حکومت کے پاس بجٹ پیش کرنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں کیونکہ چار ماہ کا منی بجٹ پیش کرنا نگراں حکومت جبکہ آئندہ مالی سال کا بجٹ نئی حکومت کی
ذمہ داری ہے‘۔

تکنیکی طور پر مطلوبہ صارف کے مطالبے پرعمل درآمد ممکن نہیں کیونکہ عبوری حکومت کے پاس بجٹ پیش کرنے کا اختیار نہیں ہوتا(ادارہ)۔

اسٹیفن اختر نامی صارف کا کہنا تھا کہ ’میری ایک پاکستانی ہونے کے ناطے صرف اتنی سی گزارش ہے کہ غریب لوگوں پر رحم کیا جائے، اُن کے بچوں کا بھی دودھ اور روٹی پر اُتنا ہی حق ہے جتنا کسی امیر کا ہے، خدارا اس بجٹ میں غریبوں کا خاص خیال رکھا  جائے‘۔

صغریٰ قریشی کا کہنا تھا کہ ’تعلیمی نظام کو بہتر بنایا جائے اور خصوصاً سندھ کے غریب باصلاحت طالب علموں کو اسکالر شپ فراہم کی جائیں تاکہ پاکستان کا مستقبل سنور سکے‘۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ’نوجوانوں کو مستقبل ملازمتیں فراہم کی جائیں‘۔

ملک یعقوب نامی صارف کا کہنا تھا کہ سرکاری اسکولوں میں موجود کم تعلیم یافتہ اساتذہ کو نوکریوں سے فارغ کیا جائے، نظام تعلیم کو جدید سلیبس سے بہتر بنایا جائے اور اسکولوں میں موجود اساتذہ کی کمی کے ساتھ فرنیچر، چوکیدار کی سہولیات بھی فراہم کی جائے اور طبقاتی نظام تعلیم کو فوری طور پر ختم کیا جائے‘۔ اُن کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ ’صحت کا بجٹ بڑھایا جائے اور ہر یونین کونسل کی سطح پر کم از کم 20 بستروں پر مشتمل جدید سہولیات سے آراستہ اسپتال بنائے جائیں‘۔

مہک خان نامی صارف کا کہنا تھا کہ ’تعلیمی یافتہ نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے جائیں اور سرکاری و پرائیوٹ ملازمین کی تنخواہوں کو برابر کیا جائے‘۔

آسیہ علی نے مطالبہ کیا کہ ’بجٹ میں پینشنرز کا ضرور خیال رکھا جائے‘

دلاور راجپوت نامی صارف کا کہناتھا کہ ’زراعت، صحت اور تعلیم کے لیے بہتر اقدامات کیے جائیں‘

فیض فیضی نامی صارف کا کہنا تھا کہ ’ بینک میں پیسے نکلوانے اور جمع کروانے، موبائل بیلنس اور کالز پر عائد ٹیکس کم کردیں، شعبہ تعلیم پر زیادہ توجہ دینی چاہیے‘۔

محمد افسر علی نے مطالبہ کیا کہ 55 سال سے زائد عمر کے ہر پاکستانی (مرد، عورت) کو اولڈ ایج بینفٹ دیا جائے۔

چوہدری لیاقت نے مطالبہ کیا کہ ’اولڈ ایج بینیفٹ کی نوکری کی معیاد 15 سال سے کم کی جائے اور عمر کی حد 50 سال مقرر کی جائے‘۔

غلام عباس نامی صارف کا کہنا تھا کہ ’مزدور کی تنخواہ کم از کم 20 ہزار کی جائے کیونکہ مہنگائی کی شرح کے حساب سے تنخواہیں بہت کم ہیں‘۔

خادم حسین قادری نامی صارف کا کہنا تھا کہ ’بے روزگاری کا خاتمہ کیا جائے اور اس کے لیے گریجویٹ و نان گریجویٹ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع، اعلیٰ تعلیم، شعبہ صحت میں اے گریڈ میڈیسن کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے‘۔

معصوم نیازی نے مطالبہ کیا کہ  محکمہ پولیس کی تنخواہوں میں چالیس فیصد اضافہ کیا جائے۔

ابوہوا نامی صارف کا کہنا تھا کہ ’عوام کو مفت شناخت اور مفت قبر مہیا کی جائے‘۔

اقصیٰ نیازی نامی صارف کا کہنا تھا کہ ’کنٹریکٹ ڈاکٹرز کو مستقل نوکری فراہم کی جائے‘۔

محمد طیب مغل نامی صارف نے مطالبہ کیا کہ ’غریبوں کو بالکل مفت طبی سہولیات دی جائیں‘۔

ٹویٹر پر بھی صارفین نے مطالبات پیش کیے

 


نوٹ: فیس بک پوسٹ پر سیکڑوں صارفین نے کمنٹس کیے تاہم ادارے نے قواعد و ضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے اعلیٰ معیار اور تہذیب و اخلاق کے دائرے میں کیے گئے کمنٹس کو اسٹوری میں شامل کیا ہے، عوامی سنجیدگی اور اُن کی آراء کو حکمرانوں تک پہنچانے کی پوری کوشش کی جائے گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں