کراچی : پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر عوام حکومت پر برس پڑے اور کہا رمضان سے پہلے حکومت نے ریلیف کی جگہ تکلیف دے دی،اب پیدل چلیں گے یا پھر سائیکل نکالنی پڑے گی۔
تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر ملک بھر میں شدید عوامی ردِعمل سامنے آیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ رمضان کی آمد آمد ہے، حکومت کو چاہیے تھا عوام کو کچھ ریلیف دیں انہوں نے مزید تکلیف دے دی اور راتوں رات پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔
عوام نے شکوہ کیا کہ "ہماری تنخواہیں نہیں بڑھتیں لیکن پیٹرول روز روز مہنگا ہو رہا ہے، اس مہنگائی میں گزارا کرنا اب ناممکن ہو چکا ہے۔”
یٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے پر شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب موٹر سائیکل اور گاڑیاں چلانا بس کی بات نہیں رہی، اب یا تو پیدل چلنا پڑے گا یا پرانی سائیکلیں نکالنی ہوں گی۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ رمضان کے مقدس مہینے میں سہولت فراہم کرنے کے بجائے عوام کی کمر نہ توڑی جائے۔
یاد رہے گذشتہ رات حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا ، جس کے مطابق پیٹرول پانچ روپے اور ڈیزل سات روپے بتیس پیسے فی لیٹر مہنگا کیا گیا۔
جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت دو سو اٹھاون روپے سترہ پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت دو سو پچھتر روپے ستر پیسے فی لیٹر ہوگئی۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی اضافہ کردیا گیا، مٹی کے تیل کی قیمت چار روپے تہتر پیسے بڑھا کر ایک سو اسی روپے تریپن پیسے مقرر کردی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


