ہفتہ, جون 13, 2026
اشتہار

پلمونری ایمبولزم : خون جمنے اور اچانک حملہ کرنے والی خطرناک بیماری

اشتہار

حیرت انگیز

پلمونری ایمبولزم ایک نہایت خطرناک اور بعض اوقات جان لیوا طبی عارضہ ہے جو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب پھیپھڑوں کی شریانوں میں خون جمنے لگے اور اس کی روانی میں رکاوٹ بن جائے۔

طبی ماہرین کے مطابق یہ بیماری فوری تشخیص اور بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں سنگین پیچیدگیوں بلکہ موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ انسانی جسم میں موجود پلمونری شریانیں پھیپھڑوں تک خون پہنچانے کا کام کرتی ہیں۔ اگر ان شریانوں میں سے کسی ایک میں بھی خون کا لوتھڑا پھنس جائے تو اسے پلمونری ایمبولزم کہا جاتا ہے۔

اکثر اوقات یہ خون کا لوتھڑا ٹانگوں کی گہری رگوں میں بنتا ہے، جسے طبی زبان میں ڈیپ وین تھرومبوسس (ڈی وی ٹی) کہا جاتا ہے اور بعد ازاں خون کے بہاؤ کے ذریعے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس مرض کی سب سے نمایاں علامت اچانک سانس پھولنا یا سانس لینے میں دشواری ہے، جو جسمانی سرگرمی کے دوران مزید شدت اختیار کرسکتی ہے۔

اس کے علاوہ سینے میں شدید درد بھی پلمونری ایمبولزم کی اہم علامت تصور کیا جاتا ہے، یہ درد گہرا سانس لینے، کھانسنے یا جھکنے سے مزید بڑھ سکتا ہے، جس کے باعث مریض کو دل کے دورے جیسی کیفیت محسوس ہوسکتی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دل کی دھڑکن کا غیر معمولی طور پر تیز ہونا، چکر آنا، بے چینی، زیادہ پسینہ آنا، ہلکا یا تیز بخار اور کھانسی کے ساتھ خون آنا بھی اس بیماری کی خطرناک علامات میں شامل ہیں۔

بعض مریضوں میں یہ علامات شدت کے اعتبار سے مختلف ہوسکتی ہیں، خصوصاً اگر مریض پہلے سے دل یا پھیپھڑوں کے کسی عارضے میں مبتلا ہو۔

ماہرین کے مطابق پلمونری ایمبولزم ایک طبی ایمرجنسی ہے، اس لیے اس کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی امداد حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے۔

بعض شدید کیسز میں خون کے لوتھڑے کو ختم کرنے یا خون کی روانی بحال کرنے کے لیے سرجری کی ضرورت بھی پیش آسکتی ہے، خاص طور پر جب ادویات مؤثر ثابت نہ ہوں۔

طبی ماہرین نے اس خطرناک بیماری سے بچاؤ کے لیے متحرک طرزِ زندگی اپنانے پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق روزانہ چہل قدمی اور ورزش خون کے بہاؤ کو بہتر بناتی ہے اور خون کے لوتھڑے بننے کے امکانات کو کم کرتی ہے۔

اسی طرح کمپریشن جرابوں کا استعمال بھی مفید قرار دیا جاتا ہے، کیونکہ یہ ٹانگوں میں خون کی روانی بہتر بنا کر ڈیپ وین تھرومبوسس کے خطرے میں کمی لاتی ہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ موٹاپا اور زیادہ وزن خون جمنے کے امکانات بڑھا سکتے ہیں، اس لیے صحت مند وزن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ تمباکو نوشی ترک کرنا بھی بے حد اہم ہے کیونکہ سگریٹ نوشی خون کے لوتھڑے بننے کے خطرات میں اضافہ کرتی ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا، مناسب ورزش اور بروقت طبی معائنہ اس بیماری سے محفوظ رہنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں