The news is by your side.

Advertisement

پلوامہ حملہ، سوشل میڈیا صارفین کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز

نئی دہلی: بھارتی حکومت نے پلوامہ حملے پر سوالات اٹھانے والے سوشل میڈیا صارفین کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مودی حکومت نے پلوامہ حملے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا جس کے تحت ایک پروفیسر جبکہ ایک کشمیری طالبہ سمیت متعدد کشمیری طالب علموں کو تعلیمی اداروں سے معطل کردیا گیا۔

بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلاع مراد آباد میں واقع ایم آئی ٹی فارمیسی کالج میں زیر تعلیم طالب علم نے پلوامہ حملے میں پاکستان کو بے قصور قرار دیا تو ہندو انتہاء پسند طلباء تنظمیوں کے کارکنوں نے اُسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔

اسی سے متعلق: پلوامہ حملے میں بھارت ہی کا بارودی مواد استعمال ہوا، سابق فوجی جنرل کا ہوشربا انکشاف

مزید پڑھیں: سلمان خان نے اپنی نئی فلم سے عاطف اسلم کا گانا نکلوادیا

علاوہ ازیں کالج میں زیر تعلیم دیگر کشمیری نوجوانوں پر بھی انتہا پسند تنظیم کے کارکنوں نے حملہ کیا اور انہیں لہولہان کردیا جبکہ علی گڑھ میں واقع بازار میں بھی مشتعل انتہاء پسندوں نے پاکستان مخالف نعرے لگائے جبکہ علی گڑھ یونیورسٹی میں زیر تعلیم کشمیر طالب علم وسیم حلال کا انتظامیہ نے داخلہ معطل کرتے ہوئے اُس کے یونیورسٹی داخلے پر مکمل پابندی عائد کردی۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر کے علاقے سری نگر سے 20 کلومیٹر دور پلوامہ کے نیشنل ہائی وے پر  فوجی دستے پر خودکش حملہ ہوا تھا جس میں 44 بھارتی فوجی مارے گئے تھے، بھارت نے حملے کے فوری بعد پاکستان کے خلاف محاذ کھولتے ہوئے ہرزہ سرائی کی اور بے بنیاد الزامات عائد کیے۔

بھارت نے پاکستان پر تجارتی پابندیوں کے ساتھ پاکستانی اداکاروں پر بھی بھارتی فلموں میں کام کرنے پر پابندی عائد کردی جبکہ انتہاء پسند تنظیموں کے مطالبہ پر پاکستانی گلوکاروں اور فنکاروں کی ویڈیوز بھی ڈیلیٹ کردی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: پلوامہ حملہ ، پاکستانیوں کو 48گھنٹے میں راجستھان چھوڑنے کی وارننگ

سابق بھارتی کرکٹر اور نامور بھارتی سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو نے پلوامہ حملے کے پاکستان پر لگائے جانے والے الزام کی مذمت کرتے ہوئے مودی سرکار کو تجویز دی کہ کشمیریوں کا مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کی جائے، بھارتی انتہاء پسندوں نے سدھو کے خلاف متعصبانہ اقدامات کیے اور انہیں ’دی کپل شرما شو‘ سے بھی نکال دیا۔

دوسری جانب شیوسینا نامی انتہاء پسند تنظیم نے نے دھمکی دی ہے کہ ریڈیو پر پاکستانی گلوکاروں کے گانے نہیں چلیں گے اور اگر ایسا کیا گیا تو اسٹیشن کے باہر شدید احتجاج کیا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں