The news is by your side.

Advertisement

تین اپریل‘ برطانوی شہری مسلمانوں کی حفاظت کے لیے میدان میں آگئے

لندن: برطانیہ میں ایک مخصوص طبقے کی جانب سے اعلان کردہ ’مسلمانوں کو سزا دو‘ کے دن کے خلاف برطانیہ کے معتدل افراد ڈٹ گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ ماہ برطانیہ میں ایک مخصوص مغربی شدت پسند طبقے کی جانب سے عوام میں خط تقسیم کیے گئے تھے جس پر تحریر تھا کہ آج یعنی 3 اپریل کو مسلمانوں کو سزا دو کے طور پر منایا جائے۔ آج کے دن مسلمانوں کو ایذا پہنچانے پر پوائنٹ سسٹم بھی وضع کیا گیا تھا اور اس میں کسی مسلم خاتون کا اسکارف کھینچنے سے لے کر بم دھماکوں تک کے ہولناک جرائم شامل ہیں۔

 اس خط پرمعتدل مزاج برطانوی شہریوں نے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اس مہم کو اسلامک فوبیا قراردیا اور اس کے خلاف متحد ہوگئے ہیں۔ برطانوی شہریوں نے کہا ہے کہ کسی مسلمان پر کیا گیا حملہ پورے برطانیہ پر حملہ سمجھا جائے گا اور ہم اپنے مسلمان بھائیوں کی حفاظت کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔ برطانیہ کے شہر لیسٹر میں 20 فیصد مسلمانوں کی آبادی ہے، جہاں مسلمانوں پر حملے کے خدشات  سب سے زیادہ ہیں۔

لندن میں موجود سعودی ایمبیسی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم برطانیہ کے عہدیداران سے مسلسل رابطے میں ہیں‘احتیاطی تدابیر کے طور پر اپنے شہریوں کو آج کے دن احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔

برطانیہ میں مسلمانوں‌ کے خلاف نفرت انگیز خط کی تقسیم

لیسٹر شائر پولیس کا کہنا ہے کہ ہم مسلمانوں کے خلاف سزا دینے کے اقدام پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور ایسے کسی بھی اقدام پر پولیس حرکت میں آئے گی۔

گزشتہ ہفتے چیف کانسٹیبل سائمن کول کا کہنا تھا کہ ہم نے مربوط پلان بنا رکھا ہے، اور امید ہے کہ آج کا دن بھی عام دن کے طور پر گزر جائے گا، شہریوں کو اس اقدام سے متعلق کوئی بھی اطلاع ہو تو فوری طور پر برطانوی پولیس کو آگاہ کرے، ان کا کہنا تھا کہ ہم مجرمانہ سرگرمیوں سے سخت نفرت کرتے ہیں جس کا ثبوت پول مورے کی گرفتاری اور اس کی سزا ہے۔

 یاد رہے برطانوی عدالت نے 21 سالہ پول مورے کو مسلم لباس میں ملبوس خاتون پر قاتلانہ حملے کی کوشش میں 20 سال قید کی سزا سنائی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں