site
stats
پاکستان

پنجاب اسمبلی میں فنانس بل منظور،اپوزیشن کا احتجاج

لاہور ( الفت مغل): اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ عائشہ غوث پاشا نے فنانس بل 2016,17منظوری کے لیے ایوان میں پیش کیا۔

اپوزیشن لیڈر محمود الرشید نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ نئے ٹیکس واپس لیے جائیں، پلاٹوں پر ٹیکس سے عام آدمی براہ راست متاثر ہو گا اور لوگ اپنی چھت کی خواہش سے محروم رہیں گے۔

اپوزیشن رکن میاں اسلم اقبال نے بل پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ پنجاب حکومت اپنے غیر ضروری اخراجات کم کرے رکشا اور چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکس کے بجائے بڑی اور لگژ ری گاڑیوں پر ٹیکس لگایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت کی کارکردگی مایوس کن ہے ،عوام کے ٹیکسوں سے جاتی امرا رائے ونڈ کے لیے بلٹ پروف سیکیورٹی دیواریں بنائی جا رہی ہیں۔

وزیر خزانہ عائشہ غوث پاشا نے اپوزیشن کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کہاکہ پنجاب حکومت نے چیمبر آف کامرس کی مشاورت سے ٹیکس نیٹ کو بہتر بنایا ہے،رکشا اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو یہ سہولت دی گئی ہے کہ وہ یک مشت یا اقساط میں ٹیکس جمع کرا سکیں گے۔

صوبائی وزیر خزانہ نے کہاکہ غریب لوگوں کی توجہ صرف روٹی پر ہے ،غریب لوگ پراپرٹی کا کام نہیں کرتے، پانچ مرلے تک کے پلاٹ مالکان دو سال میں گھر کی تعمیر کا آغاز کردیں گے تو ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ لوگ اپنا سر مایہ پراپرٹی میں لگا رہے ہیں اس کے بجائے اگر وہ انڈسٹریز لگائیں گے تو روز گار بڑھے گا۔

اپوزیشن کی تنقید اور مخالفت کے باوجود اکثریت کی بنیاد پر حکومت نے فنانس بل 2016,17 پنجاب اسمبلی سے منظور کرا لیا۔

اجلاس میں صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے مقامی حکومتوں کا چوتھا ترمیمی بل پیش کیا جس کے مطابق شہری سہولیات کی حامل دیہی یونین کونسلز کو بھی پراپرٹی ٹیکس لگانے کا اختیار دے دیا گیا۔

اپوزیشن نے اس بل کی بھی مخالفت کی تاہم پنجاب اسمبلی نے بل کثرت رائے سے منظور کر لیا۔ اسپیکر نے منگل کی صبح دس بجے تک اجلاس ملتوی کر دیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top