The news is by your side.

Advertisement

پنجاب اسمبلی کا اجلاس ہوٹل میں منعقد کیے جانے پر اضافی اخراجات

لاہور: پنجاب اسمبلی کا اجلاس ہوٹل میں منعقد کیے جانے کے فیصلے کے بعد اضافی اخراجات ہوں گے، پنجاب اسمبلی کا اجلاس 5 سے 29 جون تک جاری رہے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس نجی ہوٹل میں کروانے کی تجویز کے بعد امکان ہے کہ اجلاس پر 2 کروڑ کے اضافی اخراجات ہوں گے۔ اسمبلی کے ایک دن کے اجلاس کے تقریباً ایک کروڑ کے اخراجات ہوتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس اسمبلی میں ہونے پر ارکان کی تنخواہیں اور بونس اخراجات میں شمار ہوتے ہیں، ایم پی ایز کی تنخواہ اور ٹی اے ڈی اے (سفر و رہائش کے) کو اخراجات میں شمار کیا جاتا ہے۔

اسی طرح اجلاس میں استعمال اسٹیشنری اور دیگر اشیا بھی اخراجات میں شمار ہوتی ہیں۔

ذرائع اسمبلی کا کہنا ہے کہ اجلاس ہوٹل میں ہونے پر کرایہ اور کھانے پینے پر اضافی اخراجات ہوں گے، اجلاس ہوٹل میں ہونے پر اخراجات کی تفصیلات کل جاری ہوں گی۔

یاد رہے کہ پنجاب اسمبلی کے ہال کا جائزہ لینے کے بعد علم ہوا کہ اراکین کا ایس او پیز کے تحت بیٹھنا ناممکن ہے اسی کے پیش نظر اجلاس کا انعقاد مقامی ہوٹل میں کیا جارہا ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے مقامی ہوٹل میں پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے انعقاد کے انتظامات شروع کردیے گئے ہیں، ایجرٹن روڈ پر ہوٹل میں اراکین اسمبلی کو ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔

معیاری سہولتیں نہ ہونے پر ایوان اقبال میں اجلاس کا فیصلہ بھی واپس لے لیا گیا تھا۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس 5 سے 29 جون تک جاری رہے گا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں