پنجاب:‌ آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش Punjab Budget 2017-18 Ary
The news is by your side.

Advertisement

پنجاب:1970 ارب روپے کا بجٹ پیش، تنخواہوں‌ میں‌ 10 فیصد اضافہ

لاہور: پنجاب اسمبلی میں مالی سال برائے 18-2017 کے لیے ایک ہزار 970 ارب  روپے کا بجٹ پیش کردیا گیا، سرکاری ملازمین کی  تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا، اورنج لائن کے لیے 93 ارب روپے، تعلیم کے لیے 355 اور سڑکوں کے لیے 245 ارب مختص کیے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی میں اسپیکر رانا اقبال کی زیر صدارت بجٹ اجلاس ہوا جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب، حکومتی وزراء اور اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔ وزیر خزانہ پنجاب عائشہ غوث نے آئندہ مالی سال 18-2017 کا بجٹ پیش کیا۔ اپوزیشن ارکین اجلاس میں بازوؤں پر گو نواز گو پٹیاں باندھ کر شریک ہوئے اور اجلاس کے دوران شوشرابہ کرتے رہے۔

بجٹ خطاب

عائشہ غوث نے اپنی تقریر کے آغاز میں کہا کہ 2008 میں شروع ہونے والا دور آئندہ بھی جاری رہے گا، پاکستان کو 2 دہائیوں سے شدید مسائل کا سامنا تھا مگر جمہوریت کی وجہ سے آج اور کل کے پاکستان میں واضح فرق ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کی معیشت کا حجم 300 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، رواں سال پاکستان کی معیشت کی شرح نمو 5.28فیصد رہی، ہماری فی کس آمدنی 1623 ڈالر تک پہنچ گئی۔

عائشہ غوث نے کہا کہ پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ دنیا کی بہترین مارکیٹوں میں شمار ہوتی ہے جس کی ایک اہم وجہ سی پیک بھی ہے جو خطے میں گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ سی پیک پاک چین دوستی کی علامت ہے، سی پیک سمیت تمام منصوبے شفافیت اور میرٹ کی مثال ہیں، وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنی جذبے اور سچی لگن سے صوبے کی خدمت کی جس کا پھل آج سب کو مل رہا ہے۔

وزیرخزانہ پنجاب نے کہا کہ تمام مسائل کے باوجود متوازن بجٹ تیار کیا، موجودہ حکومت کا پانچوں بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز ہے، رواں سال مختلف منصوبوں میں 220 ارب روپے کی بچت ہوگی جبکہ 57 غیرملکی سرمایہ کاروں سے معاہدے کیے گئے ہیں۔

بجٹ

عائشہ غوث نے ایوان کو بتایا کہ آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ کا حجم 1970 ارب 70 کروڑ روپے ہے، جس میں  ترقیاتی بجٹ  کا حجم 635 ارب روپے محصولات کا تخمینہ 1502 ارب روپے جبکہ وفاق سے پنجاب کو 1154 ارب روپے ملیں گے جبکہ صوبائی ریونیو کی مد میں348 ارب روپے حاصل ہوں گے۔ ٹیکسوں کی مد میں 230ارب روپے کی آمدن کا امکان ہے۔

وزیر خزانہ پنجاب نے کہا کہ  شعبہ تعلیم کے لیے 345 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ تعلیم صحت، واٹر سپلائی پر 201 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے اسکول ایجوکیشن پروگرام کے لئے53ارب36کروڑ روپے مختص اور ضلعی تعلیم کے لئے 230ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

تعلیم

اُن کا کہنا تھا کہ آج صوبے میں زیور تعلیم پروگرام سے 4 لاکھ 62 ہزار بچیاں مستفید ہورہی ہیں جبکہ 2لاکھ60ہزارطالبعلم حکومتی وظائف پرتعلیم حاصل کررہے ہیں،

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے تعلیم کے شعبے کو اہمیت دیتے ہوئے اسکولوں کی تعمیر ومرمت کے لئے 28ارب روپے مختص کرنے کی تجویز کی ہے جبکہ پسماندہ علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم کیلئے 6ارب50کروڑمختص کرنے کی تجویز اور پنجاب ایجوکیشن اتھارٹی کے لئے 7ارب روپے مختص کرنے کی تجویز کی ہے۔

وزیر خزانہ پنجاب نے بتایا کہ آئندہ مالی سال تعلیم کے لئے ساڑھے 6ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، خادم اعلیٰ پنجاب پروگرام کے تحت3412 اسکولوں میں 6519 کمرے تعمیر کرنے کاہدف ہے جبکہ 1200 مخدوش اسکولوں کی تعمیر کےلیے 2 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

عائشہ غوث نے کہا کہ اسکولوں میں دیگر سہولتوں کے لئے 4ارب روپے مختص کرنے کی تجویزہے جبکہ وزیراعلی لیپ ٹاپ اسکیم کے لئے 7 ارب روپے، محکمہ ہائیر ایجوکیشن کے لئے 18 ارب 3 کروڑ جب کہ خصوصی تعلیم کے لیے ایک ارب 6 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

زراعت

عائشہ غوث نے کہا کہ اس سال  گندم کی پیداوار 22 ملین ٹن رہی، اہم فصلوں کی شرح نمو 4.12 فیصد رہی، اس سال کپاس کی بوائی کا ہدف حاصل کرلیا اور ٹیکسٹائل کے شعبے کو ایک بار پھر اُس کے قدموں پر کھڑا کردیا۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال کھادکی قیمتوں میں جوکمی کی گئی تھی وہ برقرارہے گی جبکہ زراعت کے شعبے کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ٹیوب ویلوں پر لگایا جانے والا 6 ارب کا سیلز ٹیکس پنجاب حکومت ادا کرے گی، گندم کی بوری فی من 1300 روپے مقرر کی گئی ہے۔

صحت

وزیرخزانہ پنجاب نے کہا کہ جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خلاف  کریک ڈاون جاری ہے، غیر معیاری ادویات بنانے والی 84 مینوفیکچررز کے خلاف ایکشن ہوچکا ہے،انہوں نے کہا کہ صحت کےلئے 253 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،جس کے تحت صوبے بھر کے  اسپتالوں میں 10 ارب کی ادویات فراہم کی جائیں گی اور صوبے کے تمام بڑے اسپتالوں میں 1700 بستروں کااضافہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ضلعی ہیلتھ اتھارٹی کے لئے 63ارب روپے مختص کرنے کی تجویزہے۔

ترقیاتی کام

پنجاب کی وزیر خزانہ نے کہا کہ اورنج لائن کے لیے 93 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ پنجاب رورل روڈ پروگرام کے لئے 17 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

پنجاب حکومت نے صنعتی شعبے کی ترقی کے لئے 15ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی جبکہ پنجاب فوڈ اتھارٹی توسیع پروگرام کے لئے 2ارب سے زائد کی رقم مختص اور محکمہ جنگلی حیات کے لئے80 کروڑ، فشریز کے لئے 85 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی۔

 انھوں نے مزید کہا کہ ہمارا حق اپنی جگہ موجود ہے، اپنے آئینی اور قانونی حق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں