لاہور(22 فروری 2026): پنجاب میں اب مین ہول کے ڈھکن، اسٹریٹ لائٹس، اور دیگر عوامی تنصیبات کو نقصان پہنچانے یا چوری کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، جس میں قید اور جرمانہ دونوں شامل ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے مین ہول کورز، اسٹریٹ لائٹس اور دیگر عوامی تنصیبات کو نقصان پہنچانے، چوری کرنے یا ان کی غیر قانونی خرید و فروخت روکنے کے لیے "پنجاب پبلک یوٹیلٹیز انفراسٹرکچر پروٹیکشن آرڈیننس 2026” منظور کر لیا ہے۔
نئے قانون کے تحت سرکاری تنصیبات کی چوری پر 1 سے 3 سال تک قید اور 2 لاکھ سے 30 لاکھ روپے تک جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ بغیر اجازت تنصیبات اتارنے یا ان کی خرید و فروخت میں ملوث افراد کو بھی 1 سے 3 سال قید اور 5 لاکھ سے 30 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
اسی طرح، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر 3 ماہ سے 1 سال تک قید اور 50 ہزار سے 2 لاکھ روپے تک جرمانہ مقرر کیا گیا ہے، آرڈیننس میں اسکریپ ڈیلرز اور ری رولنگ پلانٹس کے لیے بھی سخت سزائیں رکھی گئی ہیں۔
ایسی اشیاء کی خرید و فروخت میں ملوث ڈیلرز کو 3 سال تک قید اور 10 لاکھ سے 1 کروڑ روپے تک جرمانہ ہو سکے گا، جبکہ جرم دہرانے کی صورت میں قید 6 سال اور جرمانہ 1 کروڑ روپے تک بڑھایا جا سکے گا۔
اگر ان تنصیبات (جیسے کھلے مین ہول) کی وجہ سے کوئی جانی نقصان ہوا تو پاکستان پینل کوڈ کے تحت قتل یا اقدامِ قتل جیسی دفعات کا اطلاق ہوگا۔
ترجمان محکمہ ہاؤسنگ پنجاب کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر یہ قوانین مین ہول کور چوری کرنے والے مافیا اور گینگز کی سرکوبی کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ عوامی تنصیبات کو نقصان پہنچانے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں اور ان کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


