پنجاب حکومت نے مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے صوبے بھر میں مارکیٹیں 10بجے تک کھلی رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
ذرائع پنجاب حکومت کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز کو پیش سفارشات منظور نہ ہو سکیں، تاجروں کو معاشی طور پر مزید دباؤ میں نہیں ڈال سکتے اس لیے مارکیٹیں جلد بند کرنے کی تجویز فی الحال مؤخر کر دی گئی ہے۔
البتہ مارکیٹوں کے اوقات کار میں تبدیلی پر مزید مشاورت کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم حتمی فیصلہ تاجروں سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
کفایت شعاری سے متعلق جاری پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے اور کفایت شعاری پالیسی پر دوبارہ اجلاس میں غور ہو گا۔
کراچی میں مارکیٹیں ، شادی ہالز اور ریسٹورنٹس کتنے بجے بند ہوں گے؟
بلوچستان
بلوچستان حکومت نے مارکیٹوں، شادی ہالز اور ریسٹورنٹس کے نئے اوقات کار جاری کر دیے۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے مطابق تمام مارکیٹیں اور شاپنگ سینٹرز رات 8 بجے بند ہوں گے تاہم دوا خانے، تندور اور نان بائی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
شادی ہال، ضیافت ہال اور ہوٹلز کی تمام تقریبات رات 10 بجے ختم کرنا ہوں گی۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کا کہنا ہے کہ ریسٹورنٹس اور ہوٹلز بھی رات 10 بجے بند کیےجائیں گے۔
خیبر پختونخوا میں نئے کاروباری اوقات کار
خیبر پختونخوا حکومت نے بجلی کی بچت کا فیصلہ کرتے ہوئے کاروباری اوقات کار محدود کر دیے جن کے مطابق ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں مارکیٹس اور پلازے رات 9 بجے جبکہ دیگر اضلاع میں 8 بجے بند ہوں گے، ریسٹورنٹس، کیفے، شادی ہالز اور تمام تقریبات رات 10 بجے تک ختم ہوں گی۔
ہوم ڈیلیوری اور ٹیک اوے سروس کو مقررہ وقت کے بعد بھی کام جاری رکھنے کی اجازت ہے۔ نجی دفاتر، اکیڈمیز، بینکس، جیولری شاپس اور فٹنس سینٹرز پر بھی نئے اوقات کار لاگو ہوں گے، صنعتی، مینوفیکچرنگ اور ایکسپورٹ یونٹس کو پابندیوں سے استثنیٰ ہوگا، صنعتوں سے منسلک شو رومز اور ریٹیل آؤٹ لیٹس مقررہ کاروباری اوقات کے پابند ہوں گے۔
صوبائی حکومت نے غیر ضروری، آرائشی لائٹنگ، فساڈ اور ڈیکوریٹو لائٹس بند رکھنے کی ہدایت کی جبکہ توانائی بچت کیلیے کمرشل سرگرمیوں میں بجلی کے محتاط استعمال پر زور دیا۔
حکومتی احکامات کے تحت غیر ضروری بجلی استعمال محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ تمام انتظامی سیکرٹریز اور کمشنرز کو توانائی بچت اقدامات پر سختی سے عملدرآمد کا حکم دیا گیا۔
ڈی سیز کو ضلعی سطح پر مارکیٹس کی نگرانی اور احکامات پر عمل یقینی بنانے کی ذمہ داری دے دی گئی۔
الفت مغل اے آر وائی نیوز لاہور سے وابستہ رپورٹر ہیں


