لاہور (6 اکتوبر 2025): پنجاب کو موسم سرما میں اسموگ کی خطرناک صورتحال کا سامنا رہتا ہے جس سے نمٹنے کیلیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
پنجاب جو گزشتہ کئی سالوں سے موسم سرما میں اسموگ کی خطرناک صورتحال سے دوچار ہے، جس کے باعث نہ صرف کئی شہروں میں نظام زندگی معطل بلکہ شہریوں کی صحت اور زندگیوں کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔
پنجاب حکومت نے اس بار اسموگ سے نمٹنے کے لیے خصوصی انتظامات کر لیے ہیں، جس کے متعلق سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ان اقدامات سے آگاہ کیا۔
مریم اورنگزیب نے بتایا کہ لاہور یا پنجاب میں اس سے قبل اسموگ جانچنے کا کوئی نظام موجود نہیں تھا، مگر اب اس کو جانچنے اور نمٹنے کے لیے پورا نظام موجود ہے۔ اسموگ کی پیشگوئی، ڈیٹا، کنٹرول کرنے کی مکمل ٹیکنالوجی حاصل کر لی گئی ہے۔
سینئر صوبائی وزیر نے بتایا کہ 3 لاکھ گاڑیوں کا فٹنس ٹیسٹ کے بعد آلودہ گاڑیوں کی نشاندہی کی۔ انڈسٹری اور گاڑیوں کی آلودگی پر خصوصی توجہ دی۔ ہاٹ اسپاٹ ایریاز میں پودے لگائے گئے اور نئی اسکیمز میں درخت لگانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ فیکٹریوں کو آن لائن ای پی اے کنٹرول سسٹم سے منسلک کر دیا گیا۔ اس سسٹم سے کسی بھی فیکٹری کی آلودگی کو مانیٹر کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ 41 ای پی اے فور کاسٹ سسٹمز نصب ہو چکے، جن کو بڑھا کر 100 تک کیا جائے گا۔
مریم اورنگزیب نے بتایا کہ اسموگ کینن امپورٹ کیے جا چکے ہیں، جلد ان کے اثرات کا ڈیٹا شیئر کیا جائے گا۔ پٹرول پمپس پر فیول کوالٹی کی جانچ بھی باقاعدگی سے کی جا رہی ہے۔ اینٹی پلاسٹک مہم جاری ہے۔ گرین کریڈٹ اسکیم کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت 20 بوتلیں جمع کرانے والوں کو گرین کریڈٹ کارڈ دیا جائے گا۔
سینئر وزیر نے یہ بھی بتایا کہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے انوائرنمنٹ پروٹیکشن فورس تشکیل دی گئی۔ ڈروان اور اسکواڈ کے ذریعہ ماحولیاتی مانیٹرنگ شروع کر دی گئی ہے۔ اسموگ وار روم تمام ڈیٹا اور ایکشن کو مانیٹر کر رہا ہے۔ سڑکوں پر 17مسٹ سپر کلرز نصب کیے جا چکے ہیں۔
کیا پنجاب کا نیا اسموگ پلان کارآمد ہوگا؟ ایک تجزیہ
ان کا کہنا تھا کہ ٹائر جلانے والی فیکٹریوں کو شہر سے باہر منتقل کیا جائے گا اور شہر سے باہر بھی ٹائر جلانے کی اجازت ایس او پیز کے تحت دی جائے گی۔ تاہم حکومتی اقدامات کے ساتھ ماحول کی بہتری اور اسموگ کے خاتمے کے لیے شہریوں کو بھی تعاون کرنا ہوگا۔
دنیا کا پہلا جدید ترین اینٹی اسموگ سسٹم پاکستان کے کس شہر میں تعینات کیا گیا ہے؟
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


