site
stats
پاکستان

پنجاب: 310 بچے تاحال لاپتا، حکومت کیا کررہی ہے؟ سپریم کورٹ برہم

لاہور: سپریم کورٹ نے بچوں کے اغوا کے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر بچوں کے اغوا کے متعلق افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں تو اس کا مقصد کیا ہے اوران لوگوں کے خلاف کیا کارروائی کی جارہی ہے۔

170 بچے بازیاب کرالیے،310 لاپتا ہیں، ایڈووکیٹ جنرل

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سینئر جج جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے پنجاب میں بچوں کے اغوا کی وارداتوں پر ازخود نوٹس کی سماعت کی۔  عدالتی حکم پر قائم کمیٹی کے سربراہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کی جس میں بتایا گیا کہ جتنی شکایات موصول ہوئیں ان کے مطابق 310 بچے ابھی تک لاپتا ہیں تاہم 170 بچوں کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

دیگر اداروں کو معاونت کا حکم دیا جائے، کمیٹی

کمیٹی نے عدالت کو بتایا کہ رپورٹ پولیس کی جانب سے بھجوائے گئے اعداد وشمار کی بدولت بنائی گئی ہے تاہم دیگر اداروں کو کمیٹی کی معاونت کا حکم دیا جائے تاکہ مصدقہ اعداد وشمار مل سکیں۔

اغوا کی افواہیں زیادہ کیسز کم ہیں،ایڈیشنل آئی جی

ایڈیشنل آئی جی اور ڈی پی او اوکاڑہ سمیت اعلیٰ پولیس افسران نے پیش ہو کر عدالت کو بتایا کہ آئی جی پنجاب نے اس معاملے کی انکوائری کے لیے اعلیٰ افسران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے تاہم اغوا کے متعلق افواہیں زیادہ پھیلائی جا رہی ہیں زیادہ تر بچے گھروں سے بھاگ جاتے ہیں یا گم ہوجاتے ہیں جن کے والدین اغوا کا مقدمہ درج کروا دیتے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ حساس معاملہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

اعضا نکالنے والا کوئی گروہ سامنے نہیں آیا، ایڈووکیٹ جنرل

ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ بچوں کے اعضا نکالنے والا کوئی گروہ سامنے نہیں آیا جس پر عدالت نےریمارکس دیے کہ بچوں کے اغوا کے حوالے سے خوف کم کیا جائےاور بتایا جائے کہ افواہیں پھیلانے والوں کا مقصد کیا ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے بیان دیا کہ یہ بات غلط ہے کہ بچوں کو اغوا کرنے والے گینگ موجود نہیں پولیس کی اپنی رپورٹ میں بچوں کو اغوا کرنے والے گینگز کی موجودگی کا اقرار کیا گیا ہے۔

تیرہ سال سے کم عمر بچوں کے اعضا کی پیوند کاری نہیں ہوتی، جامعہ کنگ ایڈورڈ

انھوں نے عدالت کو بتایا کہ بچوں سے منشیات فروشی اور گداگری کروانے گروہ موجود ہیں ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ۔ وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی نے بیان دیا کہ تیرہ سال سے کم عمر بچوں کے اعضا کی پیوند کاری نہیں ہوتی تیرہ سال کے بعد بچوں کے اعضا کی پیوند کاری ہوتی ہے مگر اس کے لیے بھی حکومت سے باقاعدہ اجازت لی جاتی ہے اور اس کے لیے اسپتال مخصوص ہیں۔

کمیٹی کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم

عدالت نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے کمیٹی کو ہدایت دی کہ وہ اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کرے۔ عدالت نے مغوی بچے کے والد سینئر سول جج یوسف ہارون کی درخواست کو کیس سے الگ کرتے ہوئے اس کی اِن کیمرا سماعت کے احکامات بھی جاری کیے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top