لاہور: پنجاب حکومت کی آسان کاروبار اسکیم میں روز نئے نئے انکشاف سامنے آرہے ہیں، بینک میں فراڈ کی مزید تفصیلا سامنے آگئی۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق متعدد افراد کے اکاؤنٹس میں قرض کی مقرر حد سے زیادہ ایک سے زائد ٹرانزیکشنز ہوئیں، 2 ہزار سے زائد لوگوں کو لاکھوں روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئیں، فراڈ کے ذریعے بینک کے اربوں روپے غیرقانونی لوگوں کے اکاؤنٹس میں گئے۔
این سی سی آئی اے حکام نے بتایا کہ بینک کے اربوں روپے کے فراڈ میں ملوث 100 کے قریب لوگ گرفتار ہوچکے، ملزمان کی گرفتاری کیلئے پنجاب حکومت کی نگرانی میں احکامات دیے جارہے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ پولیس ملزمان کو گرفتار کرکے این سی سی آئی اے کے حوالے کررہی ہے، جن اکاؤنٹس میں پیسے گئے وہ آسان کاروبار اسکیم کیلئے اپلائی کرنیوالوں کے تھے۔
نجی بینک کے سسٹم میں موجود خامی کا فائدہ اٹھا کر فراڈ کیاگیا، این سی سی آئی اے نے بینک کی درخواست پر مقدمہ درج کررکھا ہے۔
این سی سی آئی اے حکام نے بتایا کہ مقدمہ بینک کے فیلڈ کلیکشن آفیسر انصر کے بیان پر درج کیا گیا، این سی سی آئی اے میں ابتدائی طور مقدمہ 24 مرد اور خواتین کیخلاف درج کیا گیا تھا، فراڈ کرنیوالے اور مستفید ہونے والوں کا تعلق پنجاب کے مختلف اضلاع سے ہے
حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر دیگر ملوث افراد کی گرفتاری کا سلسلہ جاری ہے، حکومت کی آسان کاروبار اسکیم میں مالی بے ضابطگیاں اربوں روپے تک پہنچ گئی ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ بینکنگ سافٹ وئیر کی خامی کی وجہ سے مقررہ رقم سے دگنی اکاؤنٹ ہولڈر کو منتقل ہوئی، بینکنگ سافٹ ویئر کی خامی کے سوا ہیکنگ بھی کی گئی، کئی افراد تحقیقاتی ایجنسی سےازخود رابطہ کرکے تفتیش میں شامل ہوگئے۔
بے ضابطگیوں کے کیس میں بڑھی تعداد ایسے افراد کی ہے جو بےگناہ ہیں، کئی افراد نے سادہ لوح افراد سے انکے اے ٹی ایمز لیکر اضافی رقم خود ہڑپ لی، تفتیش میں بے گناہ اور گناہ گاروں کا تعین کرکے الگ الگ تفتیش کی جارہی ہے
ذرائع نے بتایا کہ ٹرانزکشنز کا سلسلہ 21 دسمبر 2025سے شروع ہوکر 31 دسمبر تک جاری رہا، 10 روز بعد بینک حکام کو معاملے کا علم ہوا تو مزید ٹرانزکشنز کا سلسلہ بند کردیا، ٹرانزکشنز کیلئے استعمال اکاؤنٹس ک بینک کی جانب سے بند کردیا گیا۔


