The news is by your side.

Advertisement

پنجاب حکومت کا آوارہ کتوں‌ کے حوالے سے بڑا فیصلہ

لاہور: پنجاب حکومت نے ہائی کورٹ میں آوارہ کتوں کو مارنے کے بجائے اُن کے تولیدی عمل کو روکنے کی پالیسی جمع کرادی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پنجاب حکومت نے آوارہ کتوں کے حوالے سے بنائی جانے والی نئی پالیسی لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک کے روبرو پیش کی۔

اس پالیسی کے ذریعے عدالت کو صوبے میں موجود آوارہ کتوں کو مارنے کے بجائے نئی پالیسی کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ صوبے میں موجود آوارہ کتوں کو اب مارا نہیں جائے بلکہ عمل تولید کو غیر فعال کیا جائے گا تاکہ افزائش کو روکا جاسکے۔

رپورٹ میں عدالت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ آوارہ کتوں کی افزائش نسل کو روکنے کے لیے انجیکشن لگائے جائیں گے، اس حوالے سے ٹیمیں تشکیل دی جاچکی ہیں، ہرمہینے  لگ بھگ 1ہزار آوارہ کتوں کو یہ انجیکشن  لگائے جائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق  نئی پالیسی میں روزانہ کی بنیاد پر نر اور مادہ کتوں میں ویکسین کے ذریعے تولیدی نظام کو غیر فعال کیا جائے گا۔ رپورٹ میں یہ نشاندہی کی گئی کہ سیکرٹری لائیو سٹاک اور ایڈیشنل سیکرٹری بلدیات کی سربراہی میں قائم کی جانے والی کمیٹی میں جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے نمائندوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

عدالت نے صوبائی حکومت کی جانب سے رپورٹ جمع کرانے کے بعد کیس کو آئندہ سماعت تک ملتوی کیا۔ آئندہ سماعت میں پیش ہونے والی  رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی کی جائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں