The news is by your side.

نجی سود کے کاروبار پر پابندی کا قانون نافذ العمل

لاہور : پنجاب میں نجی سود کے کاروبار پر پابندی کا قانون نافذ العمل ہوگیا ، نجی سود کا لین دین کرنیوالوں کو 10 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ چوہدری پرویزالٰہی کی قیادت میں پنجاب حکومت کا تاریخ ساز اقدام سامنے آیا ، صوبے میں نجی سود کے کاروبار پر پابندی کا قانون نافذ العمل ہوگیا۔
.
اس حوالے سے دی پنجاب پروہیبشن آف انٹرسٹ آف پرائیویٹ لونزایکٹ2022 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے کہا کہ قانون نافذہونےکےبعدپنجاب میں نجی سودکاکاروبارکرنےپرپابندی عائدکردی گئی ہے، صوبہ میں کوئی بھی نجی سود کے حوالے سے لین دین نہیں کرسکےگا۔

پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ نجی سود کا کاروبار کرنیوالوں کوقانون کی گرفت میں لایاجائےگا اور نجی سود کا لین دین کرنیوالوں کو 10 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ قانون نافذ ہونےکےبعدنجی طورپرسودکی مدمیں رقم لینےوالا اب اصل رقم ہی واپس کرے گا اور رقم لینے والے شخص کواب ماضی میں لئےگئےسودکی مدمیں اضافی رقم ادانہیں کرناپڑےگی۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ سودکی مدمیں اضافی رقم مانگنے پر متعلقہ شخص کیخلاف مقدمہ درج ہوسکے گا، نجی سود کا کاروبار کرنیوالوں کیخلاف کوئی بھی شہری تھانے میں ایف آئی آر درج کرا سکے گا۔

پرویز الٰہی نے کہا کہ نجی سود پر پابندی کا قانون نافذہونےکےبعدکئی گھراجڑنےسےمحفوظ رہیں گے، سود ایک لعنت ہےاوردین اسلام میں اسےاللہ کیخلاف جنگ قراردیاگیاہے، نجی سود کے حوالے سے پابندی کا قانون دین کی خدمت ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سودکا کاروبارکرنیوالوں کوروزقیامت کالےمنہ کےساتھ اٹھایا جائے گا، ہم نیک نیتی سےدین کاکام کررہےہیں اورآئندہ بھی کرتےرہیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں