site
stats
ماحولیات

پنجاب میں 20 ہزار اسکولوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا فیصلہ

لاہور: صوبہ پنجاب کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ صوبے بھر میں 20 ہزار اسکولوں کو شمسی توانائی پر منتقل کردیا جائے تاکہ وہ توانائی کی ضروریات میں خود کفیل ہوجائیں۔

یہ فیصلہ خادم پنجاب اجالا پروگرام کے تحت کیا گیا ہے جس کے لیے 9 ارب روپے کی رقم مختص کی جارہی ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ جنوبی پنجاب کے اسکولوں کے لیے کیا گیا ہے۔

اس موقع پر وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ خادم پنجاب اجالا پروگرام تعلیم کے شعبہ میں ایک منفرد منصوبہ ہے جس کے تحت پاکستان کی خوشحالی میں اہم کردار ادا کرنے والی ایک نئی نسل تیار ہورہی ہے۔

مزید پڑھیں: دنیا کا سب سے بڑا شمسی توانائی پارک پاکستان میں

انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایات کیں کہ شمسی توانائی کی منتقلی کے منصوبے میں مؤثر نگرانی اور عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔

ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ کا یہ اقدام پنجاب کے ان حصوں کے لیے بہت مفید ثابت ہوگا جہاں سخت گرمی پڑتی ہے اور طلبا اپنے اسکولوں میں گرمی اور اندھیرے میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق شمسی توانائی، توانائی کا ایک ماحول دوست ذریعہ ہے جس کا زیادہ سے زیادہ فروغ ہماری فضائی آلودگی اور ماحولیاتی نقصانات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

یاد رہے کہ ماحولیاتی بہتری کے سلسلے میں وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ذاتی دلچسپی کے باعث گزشتہ برس قومی اسمبلی کو بھی شمسی توانائی پر منتقل کیا جاچکا ہے جس کے بعد پارلیمنٹ پاکستان دنیا کی پہلی سولر پارلیمنٹ بن چکی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top