The news is by your side.

Advertisement

پنجاب میں میڈیکل یونی ورسٹیز میں بورڈ آف گورنرز کی تعیناتی لازمی قرار

لاہور: محکمہ صحت پنجاب نے صوبے میں میڈیکل یونی ورسٹیز میں بورڈ آف گورنرز کی تعیناتی لازمی قرار دے دی۔

تفصیلات کے مطابق محکمۂ صحت نے میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشنز ایکٹ 2018 منظوری کے لیے بجھوا دیا، ایکٹ کے مطابق صوبے کی میڈیکل یونی ورسٹیوں میں بورڈ آف گورنرز کی تعیناتی لازمی ہوگی۔

پرائیویٹ پریکٹس کرنے والے ملازمین اور ڈاکٹر اضافی تنخواہ اور مراعات کے اہل ہوں گے۔

میڈیکل یونی ورسٹیوں میں بورڈ آف گورنر7 ممبران پر مشتمل ہوگا، سیکریٹری صحت اور وائس چانسلر بورڈ کے ممبر ہوں گے۔ بل کے مسودے کے مطابق وائس چانسلر کو پرو وائس چانسلر کو ہٹانے یا متبادل لانے کا اختیار حاصل ہوگا۔

نئے قانون کے مطابق میڈیکل یونی ورسٹیوں کو ترقیاتی اخراجات کے لیے فیس میں اضافے کا اختیار ہوگا، انفرادی سطح پر میڈیکل ٹیچنگ فنڈز کا قیام بھی عمل میں لایا جا سکے گا۔

مسودے کے متن میں کہا گیا ہے کہ بورڈز کو ایکٹ سے ہٹ کر قوانین بنانے کا اختیار بھی حاصل ہوگا، اداروں میں تعینات کنسلٹنٹ پرائیویٹ پریکٹس کرنے کے مجاز ہوں گے۔


یہ بھی پڑھیں:  پنجاب فوڈ اتھارٹی نے تین ہزار لیٹر مضر صحت آئس کریم کے اسٹاک کو سیل کردیا


تاہم کنسلٹنٹس کو اضافی فیسوں کی وصولی کی ممانعت ہوگی، انھیں اسپتال کی حدود کے اندر یا باہر کلینکل پریکٹس کی بھی اجازت ہوگی۔ پرائیویٹ پریکٹس کرنے والے ملازمین اور ڈاکٹر اضافی تنخواہ اور مراعات کے اہل ہوں گے۔

مسودے کے مطابق پرائیویٹ مریض سے امیجنگ سہولیات، لیبارٹری، کنسلٹنٹ فیس وصول کی جائے گی، ادارے کی فیسوں سے اسپتال ملازمین کارکردگی کی بنیاد پر مخصوص شیئر کے مجاز ہوں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں