پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں‌ ناقص انتظامات، عوام کو مشکلات کا سامنا -
The news is by your side.

Advertisement

پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں‌ ناقص انتظامات، عوام کو مشکلات کا سامنا

لاہور : پنجاب کے سب سے بڑے اسپتال انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں انتظامات انتہائی ناقص ہوچکے ہیں، مریضوں کو ایک ٹیسٹ کے لیے دو دو سال تک کا وقت دیاجانے لگا۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی مریضوں کا بوجھ اٹھانےسے قاصر ہوگیا، امراض قلب کے مریضوں کو ٹیسٹ کروانے کے لیے صبر کی ہدایت جاری کردی گئی۔

ڈاکٹر سمیع نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ یہاں پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر مریضوں کو ٹیسٹ کے لیے نمبر دئیے جاتے ہیں، مریضوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو لمبے عرصے انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔

مریضوں نے حکومت پنجاب سے سوال کیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان خود تو اپنے قلب کے علاج کے لیے لندن جاسکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس پیسے ہیں مگر ہم غریب عوام کیا کریں؟

اسپتال آنے والے مریضوں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اسپتال کی حالت زار پر توجہ لیں اور عوام کی بد دعاؤں سے بچیں۔

واضح رہے کہ میاں نواز شریف کی خراب رپورٹس آنے کے باعث ان کے معالجین نے انہیں جلد از جلد اوپن ہارٹ سرجری کا مشورہ دیا تھا، جس کے بعد لندن کے نجی اسپتال میں ان کے دل کے بائی پاس کیے گئے، صحت میں بہتری آنے پر گزشتہ روز وزیر اعظم پاکستان کو اسپتال سے گھر منتقل کردیا گیا،ڈاکٹرز کے مطابق وزیراعظم کی طبیعت اطمینان بخش ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں