The news is by your side.

Advertisement

پنجاب لوکل گورنمنٹ آرڈیننس، اپوزیشن کی صرف ایک تجویز منظور

لاہور: پنجاب میں لوکل گورنمنٹ آرڈیننس پر اپوزیشن اور حکومت کے درمیان اتفاق رائے نہ ہو سکا، ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی صرف ایک تجویز کو تسلیم کیا گیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پنجاب بلدیاتی آرڈیننس کے سلسلے میں اب تک 222 شقوں میں سے 122 کا جائزہ لیا جا چکا ہے، آرڈیننس کو زیر بحث لانے کے لیے مزید 4 اجلاسوں کی ضرورت ہوگی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کوئی سیاسی تبدیلی نہ آئی تو ایک ماہ میں بلدیاتی آرڈیننس منظور کر لیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی میئر، یونین کونسل کے الیکشن ایک دن کروانے کی تجویز منظور کر لی گئی ہے، تاہم ای وی ایم کے ذریعے انتخابات نہ کروانے کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا، میونسپل کمیٹیوں کو بحال رکھنے کا بھی مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا۔

اپوزیشن ارکان کا کہنا ہے کہ ای وی ایم کے لیے تربیت یافتہ اسٹاف اور 2 لاکھ مشینوں کی ضرورت ہوگی، جب کہ بلدیاتی اداروں کو ختم کرنے سے گورننس کا بحران پیدا ہوگا، نئے نظام کے تحت یونین کونسل کے بعد ضلع کونسل موجود ہے، درمیان میں کسی ادارے کا کوئی وجود ہی نہیں۔

ذرائع کے مطابق ن لیگ، ق لیگ اور پیپلز پارٹی میونسپل کمیٹیوں کو برقرار رکھنے کی حمایتی ہیں، تاہم پی ٹی آئی میونسپل کمیٹیوں کو ختم کرنے پر بضد ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں