اسلام آباد (07 جنوری 2026): پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان پاور شیئرنگ فارمولے پر عمل درآمد شروع نہ ہو سکا، وزیر اعظم شہباز شریف کی یقین دہانی کے باوجود پی پی کے پنجاب بارے تحفظات دور نہ ہو سکے۔
پی پی ذرائع کے مطابق پارٹی صوبہ پنجاب کے امور پر ایک بار پھر وزیر اعظم سے رابطے پر غور کر رہی ہے، قیادت کو پنجاب پاور شیئرنگ فارمولے پر عدم عمل درآمد سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے پیپلز پارٹی کو تاحال صوبائی کمیٹیوں اور بورڈز میں نمائندگی نہیں دی، جب کہ صوبائی حکومت کو بورڈز اور کمیٹیوں، لا افسران کے لیے نامزدگیاں 3 ماہ قبل بھجوا دی گئی ہیں۔
بی آئی ایس پی 2026 میں اندراج کیسے کرائیں؟ آسان طریقہ جانیں
پی پی ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے 3 ماہ گزرنے کے باوجود پارٹی کو پیش رفت سے آگاہ نہیں کیا ہے، جب کہ حکومت کو پارٹی کے 33 اہم رہنماؤں کے نام بھجوائے گئے تھے، پنجاب حکومت نے صوبے میں اہم پی پی رہنماؤں کو فنڈنگ کا یقین دلایا تھا، لیکن فنڈز بھی تاحال جاری نہیں کیے گئے۔
پنجاب حکومت پی پی رہنماؤں کو رواں مالی سال فنڈز جاری کرنے کی خواہش مند دکھائی نہیں دیتی، جس پر پنجاب کے رہنماؤں کو شدید تشویش لاحق ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ پیپلز پارٹی نے پنجاب حکومت سے گزشتہ سال اکتوبر میں رابطہ کیا تھا، اور عہدوں کے لیے نامزدگیاں کر لی تھیں، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اب پنجاب حکومت پی پی سے طے شدہ معاہدے پر عمل درآمد سے گریز کر رہی ہے۔ پارٹی نے اس رویے کو افسوس ناک قرار دیا ہے۔
جہانگیر خان اے آر وائی نیوز اسلام آباد کے نمائندے ہیں۔ وہ پارلیمانی امور، صحت، کشمیر، جی بی اور پیپلز پارٹی سے متعلق خبریں رپورٹ کرتے ہیں۔


