The news is by your side.

Advertisement

پنجاب پولیس لیڈی کانسٹیبل کو انصاف دلانے میں ناکام، تھپڑ مارنے والا وکیل رہا

شیخوپورہ: فیروز والا کچہری میں خاتون پولیس اہل کار کو تھپڑ مارنے پر گرفتار وکیل احمد مختار کو عدالت سے ضمانت مل گئی۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب پولیس اپنی ہی لیڈی کانسٹیبل کو انصاف دلانے میں ناکام ہو گئی، فیروز والا میں گاڑی کھڑی کرنے سے منع کرنے پر وکیل احمد مختار نے لیڈی کانسٹیبل فائزہ نواز کو تھپڑ مار دیا تھا۔

لیڈیز چیکنگ پوائنٹ پر گاڑی پاک کرنے سے منع کرنے پر وکیل نے لیڈی کانسٹیبل سے بد تمیزی کی اور مشتعل ہو کر تھپڑ بھی مارا، جس پر فیروز والا پولیس نے ڈی پی او کے حکم پر مقدمہ درج کر کے وکیل کو گرفتار کر لیا تھا۔

آج عدالت پیشی کے موقع پر لیڈی کانسٹیبل فائزہ نواز ہی نے ملزم کو ہتھکڑی پہنا کر لے جاتے ہوئے عدالت میں پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  سرکاری ملازمین حکومتی مشینری کا اہم حصہ ہیں، راجہ راشد حفیظ

تاہم پنجاب پولیس کی جانب سے ایف آئی آر میں غلطی کی گئی، وکیل کا نام احمد مختار کی جگہ احمد افتخار لکھ دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے وکیل کو ضمانت مل گئی۔

لیڈی کانسٹیبل نے وکیل کی رہائی پر وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے انصاف کی اپیل کر دی۔

لیڈی کانسٹیبل فائزہ نے بتایا وکیل احمد مختار کو ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا تھا، احاطہ عدالت میں وکیلوں نے دباؤ ڈال کر ملزم احمد مختار کی ہتھکڑیاں کھلوا دیں، مجھ پر بھی ذہنی دباؤ ڈالا گیا کہ ایک خاتون پولیس اہل کار کچھ نہیں کر سکتی۔

ترجمان پنجاب حکومت شہباز گل کہتے ہیں خاتون پولیس اہل کار پر ہاتھ اٹھانا قانونی اور اخلاقی طور پر جرم ہے، حکومت قانون کے مطابق کارروائی کرے گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں