The news is by your side.

Advertisement

پنجاب کا وفاقی حکومت سے 15 ہزار آکسیجن سلنڈرز کے لیے رابطے کا فیصلہ

لاہور: پنجاب نے وفاقی حکومت سے 15 ہزار آکسیجن سلنڈرز کے لیے رابطے کا فیصلہ کیا ہے، نیز صوبہ پنجاب میں آکسیجن فراہم کرنے والی گاڑیوں کو 24 گھنٹے چلنے کی اجازت دے دی گئی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیر صنعت میاں اسلم اور چیف سیکریٹری جواد رفیق ملک کی زیر صدارت اجلاس میں ادویات کی مناسب قیمتوں پر فراہمی اور آکسیجن سپلائی یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری و نجی اسپتال وینٹی لیٹرز کے چارجز ہیلتھ کیئر کمیشن کے مطابق لیں گے، اور 10 سے 15 ہزار آکسیجن سلنڈر منگوانے کے لیے وفاق سے رابطہ کیا جائے گا۔

اجلاس میں چیف سیکریٹری نے کہا کہ آکسیجن فراہم کرنے والی گاڑیوں کو 24 گھنٹے چلنے کی اجازت ہوگی، آئی جی پنجاب کو ہدایت دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان گاڑیوں کو صوبے میں کسی جگہ نہ روکا جائے۔

مریض کو آکسیجن نہ ملنے پر لاہور اسپتال میں انتظامیہ اور لواحقین میں شدید لڑائی

آکسیجن بنانے والی کمپنیوں کو بجلی کی بندش سے استثنیٰ دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں کرونا سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں لاک ڈاؤن کی صورت حال کا جائزہ بھی لیا گیا، ماسک کی پابندی سے متعلق احکامات پر عمل کرانے اور خلاف ورزی پر کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ آج اے آر وائی نیوز کی ٹیم نے اے سی سٹی تبریز مری اور پولیس کے ساتھ غیر قانونی آکسیجن سلنڈرز فروخت کرنے والوں کے خلاف چھاپے مارے، جس میں راوی روڈ اور شاہدرہ کے علاقوں میں 2 گیس فلنگ یونٹس سیل کر دیے گئے۔

اسسٹنٹ کمشنر تبریز مری کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس اور لوگوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر غیر قانونی آکسیجن سلنڈر فروخت کیے جا رہے تھے، گیس فلنگ یونٹس میں غیر قانونی طور پر آکسیجن گیس دگنی قیمت پر بیچی جا رہی تھی، یونٹس مالکان کے پاس لائسنس بھی موجود نہیں تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں