The news is by your side.

Advertisement

پنجاب یونی ورسٹی میں طلبہ تنظیموں کا تصادم‘ 9 زخمی

لاہور: پنجاب یونی ورسٹی میں تین طلبہ تنظیموں کے مابین ہونے والے تصادم کے نتیجے میں نو طالب علم زخمی ہوگئے ہیں‘ انتظامیہ نے پولیس کو طلب کرلیا‘ تاحال صورتحال قابو سےباہر ہے۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب یونی ورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ‘پختون اسٹوڈنٹ فیڈریشن اور بلوچ اسٹوڈنٹ فیڈریشن کے درمیان ہونےو الے تصادم کے دوران ڈنڈا بردار طلبہ سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے سامنے موجود تھے اور پولیس بھی ان کے سامنے بے بس نظر آرہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ طلبہ کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ بھی کی گئی تاہم پولیس کی جانب سے تصادم پر قابو پانے کی یہ کوشش بھی ناکام رہی اور طلبہ ہاتھوں میں ڈنڈے لیے مختلف ڈیپارٹمنٹس میں خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں۔

یہ بھی کہا جارہا ہے کہ دو طلبہ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے طلبہ مخالف جماعت کے کارکنان کو مختلف شعبہ جات میں ڈھونڈ رہے ہیں جس سے یونی ورسٹی کے دیگر طلبہ و طالبات میں اضطراب دیکھا جارہا ہے‘ مختلف ڈیپارٹمنٹس کےطلبہ پڑھائی چھوڑکرکلاسوں سےباہرآگئے۔

انکوائری کررہے ہیں ‘ کون ملوث ہے: وائس چانسلر


پنجاب یونی ورسٹی کے وائس چانسلر ذکریا ذاکر کا کہنا ہے کہ یونی ورسٹی انتظامیہ نے سخت ایکشن لیتے ہوئے مقدمہ درج کرادیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو سال سے دو طلبہ تنظیموں کے درمیان تنازعہ چل رہا ہے اور اکثر اوقات یہ تنظیمیں باہم دست و گریباں رہتی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ اس قسم کےحالات برداشت نہیں کرے گی‘ انکوائری کررہےہیں کون کون ملوث ہیں۔ وائس چانسلر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک تنظیم کوموردالزام نہیں ٹھہراسکتے‘ معاملے کی انکوائری کررہےہیں۔ حالات کو قابو میں کرنے کے لیے مشتعل طلبہ کو منتشر کیا جارہا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا نوٹس


دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے طلبہ تنظیموں کے درمیان تصادم کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور کو واقعے کی تحقیقات کرنے کا حکم صادر کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے‘ذمہ داروں کے خلاف قانون کےتحت کارروائی کی جائے۔کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں