پنجاب میں گندم کا گردشی قرضہ بڑھنے کے حوالے سے آڈٹ رپورٹ جاری کردی گئی، محکمہ فوڈ کو غفلت کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
گندم کے گردشی قرض سے متعلق آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ محکمہ فوڈ گندم کی خرید و فروخت کےلیے مؤثر پالیسی بنانے میں ناکام رہا، مؤثر پالیسی نہ ہونے پر صارفین اور حکومت پر 15.88 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑا۔
فنانس ڈپارٹمنٹ کی ہدایت کی خلاف ورزی گندم کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنی، قیمتوں کا تناسب نہ ہونے اور اضافی اخراجات نے صارفین اور حکومت پر اضافی دباؤ ڈالا۔
آڈٹ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ گندم کی نکاسی تناسب میں تبدیلی مالی بوجھ میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ رہی۔
خیال رہے کہ کچھ ہفتوں قبل پنجاب میں ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈاؤن کے دوران 2 لاکھ 91 ہزارمن سے زائد گندم ضبط کی گئی تھی۔
پنجاب میں ذخیرہ اندوزوں اورگرانفروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے تناظر میں ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا کی قیادت میں ناجائز منافع خوروں کے خلاف کارروائیاں تیز کی گئیں
ضلعی انتظامیہ اور محکمہ خوراک نے ذخیرہ اندوزوں کیخلاف مشترکہ گرینڈ آپریشن کے دوران 2 لاکھ 91 ہزار من سے زائد گندم ضبط کی گئی تھی اور شہریوں کی سہولت کے لیے 3 روز میں 8 لاکھ آٹے کے تھیلے مارکیٹ میں فراہم کیے گئے تھے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


