پیر, اگست 10, 2026
اشتہار

پانی کی بوتلوں پر بھی چارجز کی تجویز، اہم فیصلہ سامنے آ گیا

اشتہار

حیرت انگیز

لاہور : ڈرنکنگ واٹر بوتل پر چارجز لگانے کی ابتدائی تجویز مسترد کر دی گئی اور صاف پانی کی مفت اور بلامعاوضہ فراہمی کی ہدایت کردی۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت ‘صاف پانی اتھارٹی’ سے متعلق ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے بھر میں عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے ڈرنکنگ واٹر بوتل پر چارجز عائد کرنے کی ابتدائی تجویز کو فوری طور پر مسترد کرتے ہوئے صاف پانی کی مفت اور بلامعاوضہ فراہمی کے عزم کو دہرایا۔

اجلاس میں 4 اضلاع میں جاری ‘بوٹل ڈرنکنگ واٹر’ کے پائلٹ پراجیکٹ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس پراجیکٹ کے تحت چاروں اضلاع میں 19 لیٹر کی 10 ہزار بوتلیں مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔

وزیراعلیٰ نے 4 اضلاع میں جاری اس پراجیکٹ کی روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ طلب کی اور بہاولپور، رحیم یار خان اور خوشاب کے ڈپٹی کمشنرز کو کلین ڈرنکنگ واٹر پر عوام سے براہِ راست فیڈ بیک حاصل کرنے اور تمام اضلاع میں پانی کی روزمرہ کی ضرورت کا تعین کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس کے دوران صوبہ بھر میں پانی کے منصوبوں پر اہم پیشرفت کا جائزہ لیا گیا اور بتایا پنجاب کے مختلف اضلاع میں 864 واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تعمیر شروع کر دی گئی ہے جبکہ مزید 1913 پلانٹس پر کام کا جلد آغاز ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے پنجاب بھر میں واٹر فلٹریشن کے مجموعی 1886 التوا کا شکار یا جاری پراجیکٹس کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں صوبہ بھر میں 670 کلین ڈرنکنگ واٹر بوٹلنگ پلانٹس قائم کرنے کی سفارشات پیش کی گئیں۔ جن میں سے 335 پلانٹس پر 5,000 لیٹر اور باقی 335 پلانٹس پر 10,000 لیٹر صاف پانی تیار ہو سکے گا۔

اس کے علاوہ پینے کے پانی کی بوتلوں کی گھروں تک ترسیل کے لیے 4,020 ڈسٹریبیوشن پوائنٹس قائم کرنے کی تجویز دی گئی، جبکہ وزیراعلیٰ نے ٹینکرز اور ٹرکوں کی تعداد میں اضافے کی ہدایت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ پینے کا صاف پانی پنجاب کے ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور اسے ہر دہلیز تک پہنچانا ان کا عزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ "جہاں پینے کا صاف پانی میسر نہیں، وہاں ہر صورت بوتلوں میں بند پانی پہنچائیں گے، دور دراز علاقوں میں پانی کی خاطر تپتی دھوپ اور کٹھن راستوں کی صعوبتیں برداشت کرنے کا وقت اب ختم ہو چکا ہے۔ خواتین اور بزرگوں کو سر پر پانی کے مٹکے یا برتن لے جاتے دیکھ کر ناقابلِ بیان تکلیف ہوتی ہے۔”

انہوں نے صوبے بھر میں موجود پینے کے پانی کے پلانٹس کے مکمل فعال نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ کلین ڈرنکنگ واٹر محض ایک سہولت نہیں بلکہ یہ عوام کی صحت، سکون اور وقار کی ضمانت ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پینے کے صاف پانی کی بوتلوں پر چارجز عائد کرنے کی ابتدائی تجویز مسترد کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ عوام کو صاف پانی کی فراہمی بلا معاوضہ یقینی بنائی جائے۔

وزیراعلیٰ کی زیر صدارت صاف پانی اتھارٹی سے متعلق خصوصی اجلاس میں صوبے میں جاری کلین ڈرنکنگ واٹر منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں بہاولپور، رحیم یار خان، خوشاب اور ایک دیگر ضلع میں جاری پائلٹ پراجیکٹ پر روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ طلب کی گئی، جبکہ متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو عوامی فیڈبیک حاصل کرنے اور ہر ضلع میں صاف پانی کی یومیہ ضرورت کا تعین کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں 864 واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تعمیر جاری ہے جبکہ مزید 1,913 منصوبوں پر جلد کام شروع کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ صوبہ بھر میں 1,886 واٹر فلٹریشن منصوبے جلد مکمل کرنے کی بھی ہدایت جاری کی گئی۔

بریفنگ کے مطابق چار اضلاع کے پائلٹ پراجیکٹ کے تحت 19 لیٹر کی 10 ہزار بوتلیں روزانہ مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔ اجلاس میں صوبے بھر میں 670 بوٹلنگ پلانٹس، 4,020 ڈسٹری بیوشن پوائنٹس قائم کرنے اور ٹینکروں کے ذریعے گھر گھر صاف پانی پہنچانے کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے صاف پانی کی فراہمی کے لیے ٹرکوں کی تعداد بڑھانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ "عوام کو ان کی دہلیز پر پینے کا صاف پانی پہنچانا میرا عزم ہے۔ صاف پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور جہاں یہ سہولت میسر نہیں، وہاں ہر صورت بوتل بند پانی پہنچایا جائے گا۔”

انہوں نے کہا کہ خواتین اور بزرگوں کو پانی کے حصول کے لیے مشکلات اٹھاتے دیکھ کر دکھ ہوتا ہے، اور دور دراز علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ کلین ڈرنکنگ واٹر محض ایک سہولت نہیں بلکہ عوام کی صحت، سکون اور وقار کی ضمانت ہے۔

اہم ترین

الفت مغل
الفت مغل
الفت مغل اے آر وائی نیوز لاہور سے وابستہ رپورٹر ہیں

مزید خبریں