پنجاب کے ینگ ڈاکٹرزمطالبات کی منظوری کیلئے ایک بار پھرسڑکوں پر -
The news is by your side.

Advertisement

پنجاب کے ینگ ڈاکٹرزمطالبات کی منظوری کیلئے ایک بار پھرسڑکوں پر

لاہور / فیصل آباد / ملتان : پنجاب میں ینگ ڈاکٹرزسینٹرل انڈکشن پالیسی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ لاہور،فیصل آباد اور ملتان میں اسپتالوں میں کام بند ہونے سے مریضوں کوشدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر شہروں میں ینگ ڈاکٹرز نے او پی ڈیز کو تالے لگا دیئے جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

پنجاب میں ینگ ڈاکٹرز ایک بار پھر اپنے مطالبات کے حق میں سڑکوں پر آگئے، ینگ ڈاکٹرز نے سنٹرل انڈکشن پالیسی مسترد کردی، شہرشہراحتجاجی دھرنے اورریلیاں نکالی گئیں۔

جناح ہسپتال کے ینگ ڈاکٹرز نے احتجاج کرتے ہوئے مولانا شوکت علی اور کینال روڈ بلاک کر دی جبکہ جنرل ہسپتال کے ڈاکٹروں کے احتجاج کی وجہ سے فیروز پور روڈ بھی بلاک ہو چکی ہے۔

لاہورچلڈرن اسپتال،جناح اسپتال اور سروسزاسپتال کے ڈاکٹرز نے پنجاب اسمبلی کےباہراحتجاج کیا اور سنٹرل انڈکشن پالیسی کیخلاف شدید نعرے لگائے۔

فیصل آباد کے ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ پالیسی میں ینگ ڈاکٹرز کو اسپیشلسٹ بنانے کیلئےنشستیں کم کردی گئی ہیں جس کےباعث ملک میں ماہرین امراض کی کمی ہوجائےگی۔

ملتان میں ینگ ڈاکٹرز نے حکومت کو انتقامی کارروائی پرخبردار بھی کیا، ینگ ڈاکٹرز نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فی الفور سینٹرل انڈکشن پالیسی کے احکامات واپس لے ۔

31 جولائی تک سینٹرل انڈکشن پالیسی واپس نہ ہونے پر راست اقدام کیلیے مجبورہو جائیں گےاور مطالبات پورے نہ ہونے پرپنجاب بھرکے سرکاری اسپتالوں کی او پی ڈی بند کر دیں گے۔

دوسری جانب مسیحاوں کے احتجاج سے اسپتالوں میں کام شدید متاثر ہوا جس سے مریضوں کو شدید مشکلات کاسامنا کرنا پڑا۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں