ماسکو (10 جنوری 2026): روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے بچوں کے مقبول روسی کارٹون میں مختصر طور پر شرکت کی ہے، جہاں وہ بات کرنے والی بلی اور کتے کے ساتھ قوم کے نام نئے سال کا پیغام دیتے دکھائی دیتے ہیں۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس بار سیاسی داؤ پیچ کی بجائے کارٹون کی دنیا میں قدم رکھ کر سب کو حیران کر دیا۔ وہ باتیں کرنے والی بلّی اور کتّے کے ساتھ کارٹون کا حصہ نظر آئے اور اپنی قوم کو نئے سال کی مبارک باد دی۔ یہ پہلی بار ہے جب صدر پیوٹن کا کردار کسی کارٹون میں پیش کیا گیا ہے اور یہ منظر نہ صرف بچوں بلکہ بڑوں کے لیے بھی دل چسپی کا باعث بنا۔ کارٹون میں صدر کی یہ غیر متوقع انٹری سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جہاں صارفین اسے کبھی دل چسپ تو کبھی حیران کن قرار دے رہے ہیں۔
روئٹرز کے مطابق شو کے نام سے منسوب خیالی گاؤں پروسٹو کواشینو کے رہائشی اُس وقت حیران رہ جاتے ہیں جب کریملن کے سربراہ کا اینی میٹڈ کردار، کتے شارِک اور بلی ماتروسکن کے ہمراہ، نئے سال کے آغاز پر روسی عوام سے خطاب کرتا ہے۔
ماسکو میں واقع پروسٹو کواشینو تھیم پارک میں اپنے بچوں کے ساتھ آنے والے شہریوں نے اس حوالے سے محتاط مگر مثبت ردِعمل کا اظہار کیا۔ ایک خاتون مرینا نے کہا میرا خیال ہے کہ کارٹون میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ تو پیوٹن کیوں نہیں؟
ایک اور شخص اوکسانا فرولکووا نے کہا کہ بچے جانتے ہیں کہ پیوٹن کون ہیں، اور انھیں کارٹون میں دیکھنا شاید ان کے لیے اہم اور دل چسپ ہو۔
پیوٹن کی اس مختصر موجودگی کا عندیہ گزشتہ سال سویوزملٹ فلم اسٹوڈیو کے بورڈ کی چیئرپرسن یولیانا سلاشچیوا نے دیتے ہوئے کہا تھا کہ روس اپنے کارٹون سابق کمیونسٹ ممالک اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو فروخت کرتا ہے اور چین میں اپنی موجودگی بڑھانے کا خواہاں ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ پروسٹو کواشینو میں صدر کی شرکت ’’سافٹ پاور‘‘ کی ایک شکل ہوگی، جو روس اور اس کی ثقافت کے فروغ میں مدد دے گی۔


