روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کی پٹی کے لیے 20 نکاتی جنگ بندی کے منصوبے کی مشروط حمایت کردی۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بیان میں کہا کہ اگر امریکی صدر ٹرمپ دو ریاستی حل کی جانب پیش رفت کرتے ہیں تو روس اس کی مکمل حمایت کرے گا، پیوٹن نے کہا اسرائیل کے ساتھ فلسطینی ریاست کا قیام خطے کے امن کیلئے ناگزیر ہے۔
روسی صدر کا کہنا تھا کہ تمام فریقین کو اسرائیلی افواج کے غزہ سے مرحلہ وار انخلا کیلئے واضح ٹائم لائن پر متفق ہونا چاہیے تا کہ مکمل امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔
پیوٹن نے وضاحت کی کہ روس نے تاریخی طور پر 1948 اور 1974 کی اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں دو ریاستی حل کی حمایت کی ہے اور کہا کہ اگر ٹرمپ کا منصوبہ اس حتمی ہدف کی طرف لے جاتا ہے تو اس کی حمایت کی جا سکتی ہے اور میرے خیال میں سب کچھ صدر عباس اور موجودہ فلسطینی انتظامیہ کے حوالے کر دینا چاہیے۔
پوٹن نے ٹرمپ کے منصوبے کی ان شقوں کی بھی حمایت کی جن میں غزہ میں یرغمال بنائے گئے تمام افراد کی رہائی اور اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کی آزادی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ کس شیڈول کے تحت کتنے افراد کو رہا کیا جا سکتا ہے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینیوں، خطے کے ممالک اور حماس کے خیالات کو کسی بھی معاہدے میں شامل کرنا ضروری ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


