شام پر امریکی حملےعالمی سطح پرافراتفری پھیلانے کا باعث ہوں گے‘ روسی صدر putin-warns-of-chaos attacked-again
The news is by your side.

Advertisement

شام پر امریکی حملےعالمی سطح پرافراتفری پھیلانے کا باعث ہوں گے‘ روسی صدر

ماسکو : روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے شام پر دوبارہ میزائل حملوں عالمی امن و استحکام کو نقصان پہنچانے اور دنیا میں افراتفری پھیلانے کا سبب بنے گے۔

تفصیلات کے مطابق شام پر امریکا اور اتحادی فرانس اور برطانیہ کےمشترکہ میزائل حملوں کے بعد گذشتہ روز روس کے صدر نے بیان جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے شام کے خلاف مزید فوجی کارروائی کو عالمی امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

روس کے صدارتی محل سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شام کے مسئلے پر گذشتہ روز روسی صدر نے ایرانی ہم منصب حسن روحانی سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں دونوں ملکوں کے سربراہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مغربی ملکوں کے شام پر میزائل حملوں نے مسئلہ شام کے حل کی تمام بند کردی ہیں۔

ولادی میر پیوٹن کا کہنا ہے کہ اگرامریکا اور مغربی اتحادیوں نے شام پر دوبارہ میزائل داغے تو یہ اقوام متحدہ کے عالمی دستور کی خلاف شمار ہوگی، امریکا کے یہ اقدامات دنیا میں افراتفری پھیلانے کا سبب بنے گے۔

دوسری جانب امریکا نے روس پرمزید دباؤ بڑھانے کے لیے شام کی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کیمیائی اسلحے کی تیاری کے لیے سازو سامان مہیا کرتی ہیں۔

خیال رہے کہ برطانیہ سمیت دیگر مغربی ممالک نے شامی صدر بشارالااسد پر الزام عائد کیا تھا کہ شامی حکومت نے روس اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر ڈوما پر کیمیائی حملے کیے تھے۔ جس میں 70 سے زائد شہریوں کی موت واقع ہوئی تھی۔


امریکہ اوراس کےاتحادیوں کوشام پرحملے کے نتائج بھگتنا ہوں گے‘ روسی سفیر


شام پر حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اتحادی افواج نے گذشتہ رات انتہائی مہارت سے کیمیائی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، ساتھ امریکی صدر نے فرانس اور برطانیہ کا شکریہ ادا کرتےہوئے کہا ’شام کے خلاف مشن مکمل ہوگیا، میں دونوں ملکوں کی عقل مندی اور اپنی افواج بھیجنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں‘۔

یاد رہے کہ ہفتے کے روز الاصبح امریکا نے برطانیہ اور فرانس کے اشتراک سے ڈوما میں شہریوں پر کیمیائی بم گرائے جانے کے جواب میں شام کی کیمیائی تنصیبات کو تلف کرنے کی غرض سے تین مقامات پر 107 میزائل داغے تھے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں