جگر مراد آبادی کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ نوجوان شعرا کو نہ صرف سنتے تھے بلکہ کلام پسند آتا تو خوب داد بھی دیتے۔ پاک و ہند کے کئی نوجوان شعرا کو انھوں نے مشاعرہ پڑھنے کا موقع دیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی جس نے ان شاعروں کو پہچان دی۔ قابل اجمیری بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ آج اردو کے اس مشہور شاعر کی برسی ہے۔
ادبی تذکرے میں آیا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد حیدرآباد سندھ میں منعقدہ ایک مشاعرہ میں جگر مراد آبادی نے قابل اجمیری کا تعارف سامعین سے کروایا تھا۔ اس مشاعرے میں قابل نے اپنے اشعار سنا کر شعرا اور سامعین سبھی کی توجہ حاصل کی۔ اس کے بعد کئی مشاعروں میں ان کو مدعو کیا گیا اور ان کا کلام مقبول ہوا۔
قابل اجمیری کو اردو زبان کا بے مثل شاعر کہا جاتا ہے۔ عمر نے ان سے وفا نہ کی اور عین جوانی میں 3 اکتوبر 1962ء کو قابل اجمیری انتقال کر گئے۔ انھیں ٹی بی کا مرض لاحق تھا جو اس زمانہ میں ایک مہلک اور تکلیف دہ بیماری تصور کی جاتی تھی۔ اجمیر کے رہنے والے قابل نے تقسیم کے بعد کراچی کا رخ کیا تو یہاں کوئی گھر بار نہ تھا۔ ماہرُ القادری مرحوم نے اپنے رسالے ’’فاران‘‘ کے دفتر میں سر چھپانے کی جگہ دے دی تھی۔ اسی زمانے میں جگر صاحب سے قابل اجمیری کا تعارف ہوا تھا اور ان کی سرپرستی میں قابل نے اپنی خداداد صلاحیتوں کا خوب اظہار کیا۔
قابل نے 27 اگست 1931ء کو اجمیر میں آنکھ کھولی۔ ان کا اصل نام عبد الرّحیم تھا۔ شاعری کا آغاز کیا تو قابل تخلّص اور اجمیر کی نسبت سے قابل اجمیری مشہور ہوئے۔ انھیں نوجوانی ہی میں ٹی بی کا مرض لاحق ہو گیا تھا اور اسی مرض میں وفات پائی۔ قابل کی شاعری کا عرصہ بمشکل دس بارہ برس ہے، لیکن انھوں نے جدید غزل میں اپنے لب و لہجے کی انفرادیت اور خوش فکری کو منوایا۔
قابل کی زندگی کا ابتدائی دور بھی درد ناک رہا۔ جس عمر میں وہ رنج و غم اور کسی راحت کے چھن جانے کی اذیت سے اچھی طرح واقف بھی نہیں تھے تو والدین یکے بعد دیگرے انتقال کرگئے۔ اس وقت قابل چھے سال کے تھے۔ ان کی پرورش ان کے دادا نے کی۔ قابل کا بچپن علمی و ادبی ماحول اور اجمیر کی درگاہ کی روحانی فضا میں گزرا۔ ’’کلیات قابل اجمیری‘‘ میں شہزاد احمد نے لکھا ہے: ’قابل اجمیری کی ذاتی زندگی ایک طویل المیہ تھی لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ جب ڈاکٹر نے انہیں سیب کھانے کے لیے مشورہ دیا تھا تو ان کے پاس سیب خریدنے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ مگر اس کے باوجود اس ظالم دنیا میں ایک خاتون ایسی ضرور موجود تھیں جس نے کوئٹہ کے سینی ٹوریم میں قابل کی شریک حیات بننے کا فیصلہ اس وقت کیا تھا جب اسے معلوم تھا کہ ان کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ پھر اس خاتون نے قابل اجمیری کے لیے ترک مذہب کر کے اسلام بھی قبول کیا تھا۔‘
نوعمری میں شعر کہنے کا آغاز کرنے والے قابل کو پہلی مرتبہ اجمیر میں منعقدہ آل انڈیا مشاعرے میں شرکت کرنے کا موقع ملا تو وہاں اسٹیج پر کئی بڑے نام موجود تھے جن میں ساغر نظامی، حفیظ جالندھری، سیماب اکبر آبادی کے علاوہ جگر مراد آبادی جیسے بڑے شاعر بھی شامل تھے اور بعد میں بھی جگر صاحب سے تعلق رہا۔ اس مشاعرہ میں ان سب بڑے شعرا کے درمیان قابل نے بھی اپنا کلام پیش کیا اور خوب داد وصول کی۔ چند دوسرے مشاعرے پڑھنے کے بعد قابل کو ادبی حلقوں کے ساتھ قارئین میں بھی پہچان ملتی چلی گئی۔
قابل اجمیری کی وفات کے بعد ان کا شعری مجموعہ’’دیدۂ بیدار‘‘ اور ’’خونِ رگِ جاں‘‘ شایع ہوئے اور پھر ان کے کلام پر مشتمل کلیات بھی منظرِ عام پر آیا۔
قابل اجمیری نے مختصر اور طویل بحروں میں خوب صورت اشعار کہے۔ ان کے کئی اشعار مشہور ہوئے جن میں سے چند مشہور شعر یہ ہیں۔
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
تم نہ مانو مگر حقیقت ہے
عشق انسان کی ضرورت ہے
ہم بدلتے ہیں رخ ہواؤں کا
آئے دنیا ہمارے ساتھ چلے
حیرتوں کے سلسلے سوزِ نہاں تک آ گئے
ہم نظر تک چاہتے تھے تم تو جاں تک آ گئے
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


