The news is by your side.

Advertisement

راحیل شریف پروفیشنل فوجی نہ ہوتےتومارشل لا لگ چکا ہوتا،قادر مگسی

لاڑکانہ : سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا ہے کہ عمران خان کے دھرنے کے معاملے پر دو صوبوں کے درمیان ہونے والے جھگڑے کے باعث ملک میں مارشل لا لگ سکتا تھا لیکن راحیل شریف کی برباری کے باعث ایسا نہ ہوا۔

لاڑکانہ پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر قادر مگسی کا کہنا تھا کہ جنرل راحیل شریف نے بطور آرمی چیف آئین کے مطابق کام کیا جو کام ماضی میں کوئی جنرل نہ کرسکا وہ کام جنرل راحیل شریف نے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے کیا یہ ایک قابل قدر امر ہے۔

ڈاکٹر قادر مگسی نے جنرل راحیل شریف نے خود ایکسٹیشن نہ لینے کا اعلان کیا ہے اور وہ ایکسٹیشن نہ لے کر پاکستان کی سیاسی اور فوجی ایک شاندار روایت قائم کریں گے،جنرل راحیل شریف اگر پروفیشنل فوجی نہ ہوتے تو ملک میں کب کا مارشل لا لگ چکا ہوتا۔

ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ عمران خان کے دھرنا کا کوئی بھی نتیجہ نہیں نکلنا ہے کیوں کی تبدیلی سیاسی چہروں کی تبدیلی سے نہیں بلکہ ایجنڈے کی تبدیلی سے آئے گی،سیاست دانوں کو اپنی ترجیحات پر نظر ثانی کرنی ہو گی۔

انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ پاکستان میں کرپشن 1954 کے بعد شروع ہوئی اور جنرل ضیاالحق سے لے کر آمریت کے ہر دؤر میں جدید کرپشن کے طریقے ایجاد ہوئے۔

عمران خان کی جانب سے دھرنا ختم کرنے اور یوم تشکر منانے کے اعلان سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب بعد انہوں نے کہا کہ پردے کے پیچھے موجود افراد کے کہنے پر دھرنا ختم ہوا ہے اور اب اظہار تشکر منانا محض فیس سیونگ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

ڈاکٹر قادر مگسی کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ (نواز) نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا اگر بروقت مذاکرات کیا جاتے تو ملک میں ایسی صورتحال ہی پیدا نہ ہوتی۔

وزیر اعلی سندھ کی کارکردگی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مراد علی شاہ کے آنے سے کوئی فرق نہیں پڑا وہ سنجیدہ وزیراعلیٰ نہیں وہ صرف اور صرف انیل کپور کی طرح 24 گھنٹے کے وزیراعلیٰ بنے ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک منصوبے کے 46 بلین کے منصوبے سے 25 بلین ڈالر سندھ میں پاور جنریشن پر خرچ کرنے ہیں لیکن وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہے۔

ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ جنرل ضیا نے ایم کیو ایم کے قیام یں کلیدی کردار ادا کیا اور بعد میں آنے والے دیگر آمروں نے ایم کیو ایم کی پرورش کی اور اب ایم کیو ایم مہاجر صوبہ نہیں بلکہ علیحدہ ریاست جناح پور بنانا چاہتی ہے۔

انہوں نے صحافی کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اردو بولنے والے پورے سندھ میں ہیں، اسٹیبلشمنٹ کراچی میں نئے تجربے نہ کرے ان کے ایسے تجربے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں