The news is by your side.

Advertisement

سانحہ ماڈل ٹاؤن: 16 اگست کوخواتین کا دھرنا ہوگا: ڈاکٹرطاہرالقادری

لاہور: پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے مطالبہ کیا ہے کہ جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو پبلک کیا جائے ‘ 16 اگست کو مال روڈ پر خواتین کے دھرنےکا اعلان کردیا۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر طاہر القادری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عوامی تحریک کی خواتین 16 اگست کو مال روڈ پر دھرنا دیں گی اور جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ پبلک کرنےکی اپیل کریں گی۔

انہوں نے اپیل کی کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر غیر جانبدارانہ بنچ تشکیل دیا جائے ‘ ایسا بنچ بنایا جائے جس پر کسی کو اعتراض نہ ہو اورو ہ عیدکےبعدپہلےہفتے سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی سماعت کرے۔

ان کا کا کہنا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا ء کے اہلِ خانہ انصاف کے منتظر ہیں‘ بتایاجائےاس رپورٹ میں کس کوذمہ دارٹھہرایاگیاہے۔ طاہر القادری نے یہ بھی کہا کہ دباؤہےتوبتادیں کسی اوردروازےپردستک دیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری کاکہنا تھا کہ 16 اگست کو خواتین کا دھرنا ہوگا اور ان کی مرضی کہ دھرنا کب تک جاری رہے‘ اور شہداء کےاہل خانہ سے اظہارِ یکجہتی کے لئے میں بھی وہاں جاؤں گا۔

عوامی تحریک کے سربراہ کا کہنا تھا کہ حکمرانوں سے کسی قسم کی کوئی امید نہیں ہے‘ وہ تولوگوں کوشہیدکرتےہیں۔گجرات میں معصوم بچےکوگاڑی کےنیچےروندکرقتل کردیاگیا اور ان لوگوں نے رک کر بچے کو پوچھا تک نہیں۔


اب دھرناہوگا توآخری دھرناہوگا، علامہ طاہرالقادری


 یاد رہے کہ 08 اگست کو وطن واپسی کےموقع پر ان کا کہنا تھا کہ جسٹس باقرنجفی کا کمیشن بنایا اور کہا تھا کہ ’’ انگلی میری طرف اٹھی تو مستعفی ہوں گا، جسٹس باقر نجفی کمیشن میں کہا گیا ماڈل ٹاؤن میں قتل عام کرانے والاشہباز شریف تھا،آپ نے کمیشن کی رپورٹ دبا دی‘‘۔

طاہر القادری نے مزید کہا کہ اللہ کی طرف سے مواخذےاور انتقام کاوقت آگیا ہے، ڈیڑھ سال تک آپ کوبےگناہی ثابت کرنےکاموقع دیاگیا، آپ کےخاندان کےایک ایک فرد کو صفائی کے لیے بلایا گیا، بتاؤلوٹ مارنہیں توپیسہ کہاں سےبنایاگیاتھا، آپ کو273دن صفائی کا موقع دیا گیا تھا۔

اس موقع پر انہوں نے اپنے ورکروں سے پوچھا کہ کیا دھرنا دے دیا جائے ‘ کارکنان کی جانب سے مثبت جواب ملنے پر طاہر القادری نے کہا تھا کہ اب جو دھرنا ہوگا وہ آخری دھرنا ہوگا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں