The news is by your side.

Advertisement

قائم علی شاہ کے سیاسی سفر پر ایک نظر

سندھ کی وزارت اعلیٰ کا منصب 3 بار حاصل کرنے کا اعزاز رکھنے والے سید قائم علی شاہ خیر پور کے ایک متوسط خاندان میں پیدا ہوئے اور وہیں انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے کراچی میں سندھ مسلم لا کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد خیرپور میں وکالت کی پریکٹس شروع کی۔

وکالت کے دوران ان کی غوث علی شاہ سے دوستی ہوئی۔ ان دونوں نے پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت سے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز کیا۔

قائم علی شاہ نے ایوب خان کے دور میں دو بار بیسک ڈیموکریکٹس (بی ڈی ممبر) کا الیکشن لڑا اور دوسری مرتبہ رکن منتخب ہوئے۔

cm-2

وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کا شمار پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔ وہ خیرپور سے ضلعی کونسل کے چیئرمین منتخب ہونے کے بعد 1966 میں پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے۔

قائم علی شاہ نے 1970 کے انتخابات میں خیر پور میں غوث علی شاہ کوشکست دے کر کامیابی حاصل کی۔ بعدازاں وہ صنعتوں کے  وزیر مملکت بن گئے۔

قائم علی شاہ نے 1983 میں جنرل ضیا الحق کے خلاف جمہوریت کی بحالی کی مہم چلائی تاہم وہ پارٹی پالیسی کے تحت روپوش رہے۔

قائم علی شاہ کو 1997 انتخابات میں پہلی مرتبہ غوث علی شاہ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں پارٹی انتخابات میں سندھ کی صدارت سے بھی محروم ہونا پڑا۔ 1997 میں ہی وہ پارٹی ٹکٹ پر ایوان بالا یعنی سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے۔

وہ 1988 الیکشن کے بعد پہلی بار سندھ کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 1990 کے انتخابات میں وہ ایک مرتبہ پھر کامیابی حاصل کرکے صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بن گئے۔

cm-3

قائم علی شاہ پہلی مرتبہ دسمبر 1988 میں سندھ کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تاہم انہیں فروری 1990 میں عہدے سے ہٹا کر آفتاب شعبان میرانی کو وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا۔ قائم علی شاہ کے تینوں ادوار میں کراچی میں امن و امان کی صورتحال اہم مسئلہ رہا۔

قائم علی شاہ نے1988 ، 1990، 1993، 2002، 2008، اور 2013 کے انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کی۔

انہوں نے تین شادیاں کیں جن میں سے ان کی 2 بیویاں انتقال کرگئیں۔ ان کے 4 بیٹے اور 7 بیٹیاں ہیں۔ قائم علی شاہ کو 3 بار وزیر اعلیٰ سندھ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں