اتوار, مارچ 15, 2026
اشتہار

قیسی رام پوری: مقبول ناول نگار اور مترجم

اشتہار

حیرت انگیز

قیسی رام پوری کا شمار اپنے دور کے مقبول ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے افسانہ نگاری بھی کی، ڈرامے بھی لکھے اور تراجم بھی کیے۔ تقسیم کے بعد قیسی صاحب پاکستان آگئے تھے اور یہیں وفات پائی۔ آج ان کی برسی ہے۔

10 فروری 1974ء کو کراچی میں انتقال کرنے والے قیسی رام پوری نے اجمیر کی جس شعری و ادبی فضا میں پرورش پائی تھی، وہاں رومان پسند اہل قلم موجود تھے جن کے درمیان قیسی نے افسانہ اور ناول نگاری کے ساتھ کئی ادبی اور تاریخی نوعیت کے مضامین بھی لکھے۔ ان کے مقبول ترین ناولوں میں چوراہا، آخری فیصلہ، دل کی آواز، شیطان، دو شیشے، اپاہج، پھندا، حور وغیرہ شامل ہیں۔ قیسی کی زندگی اور ادبی سفر و دیگر مشاغل جاننے کے لیے ہم انہی کے کتاب سے چند پارے نقل کررہے ہیں، ملاحظہ کیجیے۔

"نام حامد الدین خلیل الزماں۔ والد بزرگوار کا اسم مبارک محمد زمان خان تھا۔ پر دادا صاحب کابل سے نوشہرہ میں آ کر آباد ہوگئے تھے۔ وہیں سکونت اختیار کر لی تھی لیکن والد صاحب جوانی کے عالم میں وہاں سے چل دیے اور ریاست کوٹہ میں آ کر پولیس کی ملازمت میں داخل ہوئے۔ نانا صاحب تجارت پیشہ تھے اور غدر کے بعد کے متمول ترین تاجروں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ بڑے جامع کمالات انسان تھے۔ عربی فارسی کے دریا، حافظ قران، عابد شب بیدار، اعلٰی درجہ کے انجینئر، حاذق طبیب، موسیقی کے ماہر اور جانوروں کو تربیت دینے میں ان کو خاص ملکہ تھا۔”

میری پیدائش 20 جون 1908ء کی ہے۔ فارسی و اردو نانا صاحب سے پڑھیں۔ اور پندرہ پارے تک ان سے ہی قران حفظ کیا۔ لیکن بعد کو طبیعت اچاٹ ہوگئی۔ اور اس نعمت سے محروم رہ گیا۔ میٹرک پاس کرنے کے بعد طبیعت کا رجحان ملازمت کی جانب مطلق نہ تھا۔ اسی زمانہ میں ماموں صاحب لاولد مر گئے۔ وہ بھی تجارت کرتے تھے۔ اور نانا مرحوم کی تمام دولت کو ختم کر کے صرف ایک دوکان پر قناعت کیے بیٹھے تھے۔ مجھ سے بڑی محبت کرتے تھے۔ چنانچہ ان کا تمام نقد سرمایہ اور دکان وغیرہ میرے قبضہ میں آگئی۔ میری فطرت اور صلاحیتوں کو سوائے والد صاحب کے اور کوئی نہیں سمجھتا تھا۔ میں خود بھی نہیں جانتا تھا۔ کشمکش حیات میں میری صحیح جگہ کیا ہے۔ اپنے تخیلات میں گم، خاموش اور ناکارہ سا انسان تھا۔ بہر نوع بیس ہزار کی مالیت میرے قبضہ میں تھی۔ اور قبلہ والد کی نیم رضامندی کے بعد میں نے تجارت کے سلسلے کو آگے دھکا دینا چاہا مگر ڈھائی سال کے اندر اندر نہ صرف دکان ہی ختم ہوگئی بلکہ تمام سرمایا بھی لٹا دیا۔ اس بربادی کی تنہا باعث بے پروائی تھی۔ میری دکان بیشتر رفاہِ عام کی سوسائٹی یا خوش وقتی کا ایک کلب بنی ہوئی تھی۔ جتنا مال بکتا نہ تھا اس سے زیادہ مفت تقسیم ہو جاتا تھا۔”

"ریفارم اور اصلاح کے خیالات شروع ہی سے طبیعت میں تھے۔ چنانچہ بہت سی انجمنیں بنائیں کسی کے سیکریٹری رہے۔ کسی کے صدر مگر کوٹہ کی سر زمین ایسی سنگلاخ ہے کہ وہاں ہماری مساعی کچھ بروئے کار نہ آئیں۔ آخر مزید خدمات کے لئے بلا معاوضہ انجمن حمایت اسلام، دہلی میں (اس کا دفتر بلیماران میں تھا) آ گیا۔ اور کام کرنے لگا۔ یہ شدھی کا زمانہ تھا۔ نواح دہلی میں مجھے جاٹوں کے ایک گاؤں میں روانہ کیا گیا۔ میرے ساتھ ایک والنٹیر بھی تھا۔ گاؤں میں پہنچتے ہی ہماری معمولی مرمت ہوئی۔ اور ہم پٹ پٹا کر بھوکے پیاسے گاؤں کے باہر ایک کھیت میں آ پڑے۔”

"دلّی سے سیدها اجمیر چلا آیا۔ یہ 1925ء کا ذکر ہے۔ یہاں آ کر میں نے ایک یتیم خانہ کی سفارت بلا معاوضہ اپنے ذمہ لے لی۔ اور اس کے لئے کئی شہروں میں جا کر چندہ کی معقول رقم جمع کی۔ مگر یتیم خانہ کے مہتم صاحب رقم کے باب میں مجھے دیانت دار نظر نہیں آئے۔ اس لئے اس خدمت سے بھی مجھے سبکدوش ہونا پڑا۔ بستر باندھ کر میں یتیم خانہ کے پھاٹک پر بیٹھا سوچ رہا تھا کہ اب کہاں جاؤں کہ اتفاق سے ادھر سے رامپور کے ایک صاحب نکلے۔ جن کو میں نہیں جانتا تھا۔ مگر وہ خدا جانے کس طرح مجھے جانتے تھے۔ وہ مجھے ایک قومی ادارہ کے دفتر میں لے گئے۔ جہاں آفس سپرٹینڈینٹ کی جگہ خالی تھی۔ چنانچہ میں پینتیس روپے ماہوار پر وہاں چپک گیا۔ اس طرح میرے قدم اجمیر میں جم گئے۔”

"اس کے بعد میں کوشش کر کے ریلوے آڈٹ میں آ گیا۔ جہاں اب تک پھنسا ہوا ہوں۔ فکر معاش سے آزاد ہو کر میں نے ادیب فاضل کا امتحان دیا۔ اس کے بعد منشی فاضل کا اور آخر میں انٹر کا۔ یہ ہے میری آج تک کی سوانح جس کی دھجؤں میں بہت سے آلام بھی لپٹے ہوئے ہیں اور مسرتیں بھی۔”

"میں بچپن ہی سے اپنی علیحدہ دنیا رکھتا تھا۔ سونی سونی سی اور تنگ و تاریک سی۔ مگر میں اس میں ہمیشہ مگن رہا، اوّل تو والدین کی تادیب و شدید نگرانی ہی دوسرے بچوں میں کھیلنے کا موقع کم دیتی تھی۔ اگر لڑکوں میں کھیلنے نکل جاتا تو وہ سب بہت جلد مجھ سے بیزار ہو جاتے تھے۔ خدا جانے میں ان سے کیا چاہتا تھا اور اپنے آپ کو کیا بنا کر ان کے ساتھ پیش آتا تھا۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ میں بددماغ مغرور اور لڑاکا نہ تھا۔ میری طبیعت میں شروع سے مشفق و مبارک بزرگ کا ہاتھ رہا ہے۔ جو ذرا سی لغزش پر سیدھا کر دیا کرتا تھا۔ گیارہ سال کی جب عمر ہوگئی تو میں مردم بیزار بن گیا۔ ہمیشہ تنہائی میں پڑا ہوا اپنے خیالات کا لطف لیتا تھا۔ والدہ پریشان تھی۔ عزیز و اقارب حیران تھے مگر میں اپنے حال میں خوش تھا۔”

"تین سال تک میرے اوپر یہ عالم طاری رہا۔ یا تو میں دوانہ بن جانے والا تھا یا قدرت میرے تخیل کی نشو و نما کر رہی تھی۔ اس دوران مجھے بیکار سے شعر موزوں کرنا آ گئے تھے۔ اور نثر بھی لکھنے لگا تھا۔ چودہ سال کی عمر ہو چکی تھی۔ طبیعت نشاط گناہ کے لئے پھیلنا چاہتی تھی۔ مگر کچھ بزرگوں کا تصرف۔ کچھ والد کے پیر صاحب کی باطنی عنایات کچھ گھر کی تربیت اور سب سے زیادہ خوف خدا۔ اس نے بھی شباب کی رنگینی محسوس کرنے نہیں دی۔ دل حسین لڑکیوں کے تصور سے لذت گیر ہونے سے کانپ اٹھتا۔ میں پندرہ سال کا ہو گیا۔ جیسے جیسے جوانی امنڈ امنڈ کر آتی گئی تقوی جھنجھلاتا گیا۔ بڑی کشمکش کا زمانہ تھا، خدا کی پناہ۔ اسی زمانہ میں میں نے ایک ناول لکھا۔ اور اب میری شاعری زیادہ بے تکی نہ رہی تھی۔ میری حقیر ادبی زندگی کی ابتدا شاعری سے ہوئی تھی اور میں اب تک شاعر بن سکا ہوں نہ ادیب۔”

"ابھی صرف کتابی لیاقت تھی۔ استنباط کا مادہ کم تھا۔ والد انتقال فرما چکے تھے۔ معشیت جم چکی تھی۔ بے فکری حاصل ہو چکی تھی۔ چنانچہ اپنے زعم فکر پروازی اور نبوتِ مفکری میں خدا و مذہب سے منحرف ہو گیا۔ وہ شخص منحرف ہو گیا جس کی چشمِ ظاہر باطن بچپن سے خدائی کرشمے اور بزرگوں کی کرامتیں دیکھتی آئی تھی۔ 1930ء سے 1933ء تک میں ملحد رہا لیکن الحاد بھی میری عقل کے تربیت یافتہ اخلاق کو بگاڑنے میں کامیاب نہ ہوا۔ آخر ایک شب کو میں نے ایسا عجیب و غریب اتنا طویل اور مربوط خواب دیکھا کہ میں اب بھی اس کے تصور سے کانپ اٹھتا ہوں۔ صبح اٹھتے ہی توبہ کی، تجدیدِ ایمان کی اور جو شے مجھے کسی قیمت پر بھی راس نہ آ سکتی تھی اس سے ہٹ کر پھر صحیح فضا میں آ گیا۔ میں خدا سے منحرف نہیں ہوسکتا تھا۔”

"1924ء ،1925ء میں ، میں نے ایک ناول طلسمی فوارہ لکھا۔ جس کو میں باقاعدہ ناول کہہ سکتا ہوں۔ یہ تمام تر میری صحرا نوردی اور بچپن سے لے کر جوانی کے خیالات کا نتیجہ ہے۔ اس کے بعد 1926ء میں جب اجمیر سے رسالہ کیف نکلنے لگا۔ تو اس کے لئے پہلا افسانہ ‘ایثار مجسم” لکھا۔ اس کے بعد اور لکھتا رہا۔ 1929ء میری قلم کاری کا سب سے بڑا دور ہے۔تنہا اس سال میں، میں نے شاید پچاس سے زیادہ افسانے لکھے ہوں گے۔ جو مختلف رسائل میں چھپ چکے ہیں۔ اسی سال میں دو انگریزی ناولوں کا بھی ترجمہ کیا۔”

"میری تصانیف، ہر چند ملازمت نے میرے بہترین اوقات پر قبضہ کر رکھا ہے مگر میں نے کسب معاش سے آگے اس کو بھی بڑھنے نہیں دیا۔ ملازمت میرے رجحانِ طبع اور ذوقِ فطری پر مطلق اثر انداز نہ ہو سکیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں