اسکندریہ وہ تاریخی شہر ہے، جس کے بارے میں محققین کا خیال ہے کہ اسے ۳۳۲ قبل مسیح میں آباد کیا گیا تھا۔ اسے فاتح عالم کی حیثیت سے مشہور سکندرِ اعظم نے تعمیر کروایا تھا۔ آج یہ مصر میں قاہرہ کے بعد بڑا شہر ہے۔ اس قدیم شہر میں کئی تاریخی عمارتیں اور ایسے مقامات موجود ہیں جن میں ہزاروں سال پرانی تہذیب و ثقافت کے آثار اور وہ مٹتے ہوئے نقوش دیکھے جاسکتے ہیں جو کبھی فن اور ہنر کا شاہکار تھے۔ انہی میں قائتبائی قلعہ بھی شامل ہے، جسے بحیرۂ روم کے کنارے اسکندریہ کا ایک اہم جنگی قلعہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ قلعہ اسکندریہ کے مغرب میں واقع ہے، اور بحیرۂ روم کے ساحل پر ۵۰۰ سے زیادہ سال قبل فاروس جزیرے کے مشرقی کنارے پر اسکندریہ کے قدیم مینار (لائٹ ہاؤس) کی جگہ پر تعمیر کیا گیا تھا، اور جو سلطان ناصر محمد بن قلاوون کے دور میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد گر گیا تھا، اور اس کے کئی حصّے ۱۳۷۵ء میں تباہ کر دیے گئے تھے۔
مملوک ریاست کے آخر میں ۱۴۷۷ء میں جب سلطان الاشرف ابوالنصر قائتبائی نے اسکندریہ شہر کا دورہ کیا تو اس نے ایک عظیم قلعے کی تعمیر کا حکم دیا، جس کو بعد میں قلعہ قائتبائی کہا جانے لگا۔ اس قلعے کی تعمیر کی وجہ، اسکندریہ شہر کو مستحکم کرنا اور اسے بیرونی جارحیت سے بچانا تھا۔ سلطان قائتبائی نے اسکندریہ کا بہت خیال رکھا۔ مصر کے سلطانوں اور حکم رانوں نے ہر دور میں اس قلعے کی دیکھ بھال کی ہے۔ مملوک دور میں، مملوک سلطان قنصوہ الغوری نے اس قلعے کی دیکھ بھال بخوبی کی۔ اس کی تجدید کی اور اس کی چوکی کو بڑھایا، اس کی حدود میں اضافہ کیا اور اسے اسلحے اور ساز و سامان سے لیس رکھا۔ اس طرح اس کی اہمیت میں کافی اضافہ ہوا۔ جب عثمانیوں نے مصر پر فتح حاصل کی تو انھوں نے اس قلعے کو اپنی حفاظت کے لیے ایک جگہ کے طور پر استعمال کیا۔
جب سلطنت عثمانیہ کم زور ہوئی تو قلعے کا نظام بھی کم زور ہوگیا۔ قلعہ کی فوجی اور دفاعی اہمیت گھٹنے لگی اور پھر فرانسیسی فوج نے نپولین بونا پارٹ کی قیادت میں مصر کی جنگ کے دوران اس پر قبضہ کرلیا، اور ۱۷۹۸ء میں اسکندریہ شہر، کے ساتھ پورے مصر پر بھی قبضہ کر لیا۔ جب محمد علی پاشا نے مصر کی حکومت سنبھالی اور مصر کو، خاص طور پر اس کے شمالی ساحل کو مضبوط کرنے کا کام کیا، تو اس نے قلعے کی دیواروں کو مضبوط بنایا، اور ساحلی توپیں نصب کیں۔
جب احمد عرابی کا انقلاب ۱۸۸۲ء میں واقع ہوا، جس کے نتیجے میں ۱۱ جولائی ۱۸۸۲ء کو اسکندریہ شہر پر ایک بار پھر حملہ ہوا، اور اس کے بعد مصر پر انگریزوں کا قبضہ ہوا، اس وقت قائتبائی قلعے کو تباہ برباد کردیا گیا، اور ایک عرصے تک قلعہ اسی حالت میں باقی رہا۔ یہاں تک کہ عرب نوادرات کے تحفظ کی کمیٹی نے ۱۹۰۴ء میں اس کی تزئین و آرائش کے منصوبے پر عمل درآمد کیا اور بہت سا مرمت کا کام کروایا۔
قائتبائی قلعہ تینوں اطراف سے سمندر میں گھرا ہوا ہے۔ سمندر کے کنارے سے اس کا بہت خوب صورت نظارہ ہوتا ہے۔ اس کی چھت سے اسکندریہ کا منظر دکھائی دیتا ہے اور یوں لگتا ہے جیسے شہر سمندر کو گلے لگارہا ہو۔ قائتبائی قلعے میں داخل ہونے پر اس کی راہ داری، اس میں تعمیر کردہ کمرے، تہ خانے اور کھڑکیاں آپ کو اپنی جانب کھینچنے لگتی ہیں۔ ان روزنوں یا چھوٹی کھڑکیوں سے سپاہی اپنے دشمن پر تیر پھینکتے تھے۔ یہ ایک ایسا فن تعمیر ہے جس سے قلعے کا وقار اور طاقت ظاہر ہوتی ہے۔ یہ قلعہ ۱۷,۵۵۰ مربع میٹر کے وسیع رقبے پر بنایا گیا تھا۔ قلعے کے اندرونی حصے میں سپاہیوں کی بیرکیں اور اسلحہ خانہ ہیں، اور چاروں طرف کی بیرونی دیوار میں دفاعی مینار بنائے گئے ہیں۔ قلعہ مربع شکل میں بنا ہوا ہے۔ اس کی لمبائی ۳۰ میٹر اور اونچائی ۱۷ میٹر ہے۔ یہ ٹھوس چونے اور پتھر سے بنایا گیا ہے اور یہ تین مربع منزل پر مشتمل ہے۔ قلعے کی پہلی منزل پر ایک مسجد ہے جو اسکندریہ میں قدیم مساجد میں سے ایک ہے۔
پہلی منزل پر ایک خوب صورت صحن اور وسیع راہ داری ہے، جس سے فوجیوں کو قلعے پر کسی بھی حملے کی صورت میں آسانی سے گزرنے کی سہولت ملتی ہے۔ دوسری منزل میں بہت سے کمرے، کشادہ ہال اور راہ داریاں شامل ہیں۔ قلعے کی تیسری منزل میں ایک بڑا کمرہ (سلطان قائتبائی کی نشست) بھی شامل ہے۔ اس منزل میں ایک تندور کے علاوہ قلعے میں مقیم فوجیوں کے لیے اناج پیسنے کی ایک چکی بھی موجود ہے۔ قلعے کے باسیوں کے لیے تازہ پانی کا ذخیرہ ایک بہت بڑے حوض میں کیا جاتا تھا۔
یہ قلعہ اسکندریہ کے انتہائی اہم آثار قدیمہ میں سے ایک ہے، جسے دیکھنے ہر سال ہزاروں سیاح آتے ہیں۔
( ڈاکٹر ولاء جمال العسیلی کے مضمون سے ماخوذ)
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


