The news is by your side.

Advertisement

قندیل بلوچ کیس : قتل میں خاندان کے دیگر افراد بھی ملوث ہیں، تفتیشی ٹیم

ملتان : ماڈل گرل قندیل بلوچ قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، مقتولہ کے قتل کیلئے خاندان کے لوگوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کی تھی

۔ تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والی ماڈل گرل قندیل بلوچ کے قتل کی تفتیش کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ قندیل بلو چ کے قتل میں خاندان کے لوگوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کی تھی۔

ٹیم نے اب اس مقدمے میں قندیل بلوچ کے ایک اور بھائی محمد عارف کو بھی نامزد کیا ہے جوان دنوں روز گار کے سلسلے میں سعودی عرب میں مقیم ہے۔

اس کے علاوہ قندیل بلوچ کے ایک اور رشتہ دار ظفر کا نام بھی اس مقدمے میں شامل تفتیش کیا گیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق پولیس نے اب تک صرف دو افراد کے تحویل میں ہونے کی تصدیق کی ہے جن میں مقتولہ کے بھائی وسیم اور کزن حق نواز شامل ہے۔ ملزم حق نواز ان دنوں جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ موبائل فون ریکارڈ کے مطابق قندیل بلوچ کے قتل سے ایک ہفتہ قبل اور اس واقعہ کے تین روز کے بعد بھی عارف نے حق نواز اور وسیم سے مسلسل رابطے کیے۔

واضح رہے کہ پولیس نے اس مقدمے میں غیرت کے نام پر قتل کی دفعہ بھی شامل کی ہے جس کی تحت اب مدعی چاہے بھی تو ملزمان کو معاف نہیں کر سکتا۔

مزید پڑھیں: قندیل بلوچ کے قتل کی منصوبہ بندی بیرون ملک کی گئی، ملزم وسیم کا انکشاف

یاد رہے کہ ماڈل قندیل بلوچ قتل کیس میں نامزد ملزم وسیم نےغیرت کے نام پر اپنی بہن اور معروف ماڈل قندیل بلوچ کو اُن کے گھر واقع ملتان میں قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

ان دنوں قندیل بلوچ اپنے والدین سے ملنے گھر آئی ہوئی تھی کہ رات سوتے ہوئے اُس کے بھائی نے وسیم نے گلا دبا کر قتل کیا، اور پھر گاؤں فرار ہو گیا تھا جہاں پولیس نے چھاپہ مار کارروائی میں ملزم کو گرفتار کرلیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں