site
stats
شاعری

قرارہجرمیں اس کے شراب میں نہ ملا

قرار ہجر میں اس کے شراب میں نہ ملا
وہ رنگ اس گل رعنا کا خواب میں نہ ملا

عجب کشش تھی نظر پر سراب صحرا سے
گہر مگر وہ نظر کا اس آب میں نہ ملا

بس ایک ہجرت دائم گھروں زمینوں سے
نشان مرکز دل اضطراب میں نہ ملا

سفر میں دھوپ کا منظر تھا اور سائے کا اور
ملا جو مہر میں مجھ کو سحاب میں نہ ملا

ہوا نہ پیدا وہ شعلہ جو علم سے اٹھتا
یہ شہر مردہ صحیفوں کے باب میں نہ ملا

مکاں بنا نہ یہاں اس دیار شر میں منیر
یہ قصر شوق نگر کے عذاب میں نہ ملا

**********

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top