The news is by your side.

Advertisement

قراردادِ پاکستان اور قائدِ اعظم محمد علی جناح کی صدارتی تقریر

لاہور میں 23 مارچ 1940ء کو منظور ہونے والی قرارداد نے مسلمانانِ ہند کو جو حوصلہ دیا اور ان میں جو جوش و ولولہ پیدا کیا، اس نے منزل کی سمت کا تعین کر دیا تھا جس کے بعد 1946ء میں منعقدہ انتخابات نے منظر نامہ ہی بدل کر رکھ دیا۔ اسی سال 9 اپریل کو دہلی کنونشن منعقد ہوا جسے لاہور کے اجلاس کا تسلسل بھی کہا جاتا ہے، اس نے قیامِ پاکستان کی راہ ہموار کر دی۔

قیامِ پاکستان کے بعد ہم ہر سال 23 تاریخ کو یومِ پاکستان کے طور پر مناتے ہیں۔ اسی موقع پر وہ قرارداد پیش کی گئی تھی جس میں مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس قرارداد کی منظوری کے صرف سات سال بعد ہی ہندوستان کے طول و عرض میں بسے مسلمان پاک سرزمین کی آزاد فضا میں سانس لے رہے تھے۔

برصغیر کی تقسیم ایک غیرمعمولی واقعہ اور تحریکِ پاکستان ایک عظیم الشّان تحریک تھی جس کے پس منظر میں جائیں تو آغاز محمد بن قاسم سے کیا جاسکتا ہے۔ سندھ کے راستے برصغیر میں مسلمانوں‌ کی آمد اور مختلف خاندانوں کے بعد مغلیہ سلطنت کا قیام اور بعد میں‌ انگریزوں کا قبضہ ایک طویل باب ہے جس میں ہندو لیڈروں کی یہ کوشش رہی کہ کسی طرح وہ مسلمانوں کو اپنا محکوم بنا سکیں اور ہندوستان پر راج کریں۔

ہندوستان کی تاریخ کا ادنیٰ طالبِ‌ علم بھی جانتا ہے کہ 1857ء کی جنگِ آزادی ناکام ہوئی اور انگریزوں کا ملک پر مکمل قبضہ ہو گیا جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی حکومت ختم ہو گئی اور بادشاہ کو گرفتار کر کے جلاوطن کر دیا گیا۔

اس کے بعد مسلمان راہ نماؤں نے آزادی کی جدوجہد جاری رکھی اور جدید تعلیم کی طرف توجہ دینے کی تلقین کرتے ہوئے مسلمانوں کو ہندوؤں کی سازشوں سے آگاہ کرتے رہے۔ انہی اکابرین نے انڈین نیشنل کانگریس کے ارادوں سے بھی ہمیں باخبر رکھا اور وہ وقت آیا جب 1906ء میں نواب وقارُ الملک کی صدارت میں ڈھاکہ میں مسلمانوں کا اجتماع ہوا اور نواب آف ڈھاکہ نواب سلیم اﷲ خان کی تحریک پر مسلمانوں کی سیاسی جماعت مسلم لیگ قائم ہوئی۔ بعد میں جب قائداعظم محمد علی جناح نے اس کی قیادت اپنے ہاتھوں میں لی تو علیحدہ وطن کے حصول کی کوششیں تیز تر ہوگئیں۔

علامہ اقبال نے 1930 ء میں الٰہ آباد کے مقام پر مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں اپنے صدارتی خطبے میں مسلمانوں کے آزاد وطن کا تصور پیش کیا۔ ہندوؤں اور کانگریس کا رویہ شروع ہی سے نامناسب تھا اور وہ مسلمانوں کو قوم کی حیثیت سے تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے۔ اسی طرح‌ انگریز بھی مسلمانوں کے ساتھ زیادتیاں کررہے تھے اور ان کے مطالبات تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے۔

آخر کار مارچ 1940ء میں مسلم لیگ کا اجلاس ہوا جس کی صدارت قائداعظم نے کی تو شیر بنگال مولوی فضل الحق کی پیش کردہ قرارداد منظور کرلی گئی جس میں برصغیر کے مسلم اکثریتی علاقوں کی بنیاد پر مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہی قرارداد اس جدوجہد اور تقسیم کے بعد قراردادِ پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس قرارداد نے اسلامیانِ ہند کو تصورات سے نکال کر ان کی منزل کی صورت گری کر دی تھی۔ قائدِ اعظم نے اجلاس میں کہا:

’’ہندو اور مسلمان الگ الگ فلسفۂ مذہب رکھتے ہیں۔ دونوں کی معاشرت جدا جدا ہے اور دونوں کا ادب ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ان میں باہمی شادیاں نہیں ہوتیں۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ کھانا بھی نہیں کھاتے۔ وہ دو الگ تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کی بنیادیں متضاد تصورات پر قائم ہیں۔ ان کا تصور حیات اور طرزِ حیات الگ الگ ہے۔ یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ ہندو اور مسلمان دو مختلف تاریخوں سے وجدان اور ولولہ حاصل کرتے ہیں۔ ان کا رزمیہ ادب الگ ہے۔ ان کے مشاہیر الگ الگ ہیں اور ان کا تاریخی سرمایہ جدا جدا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک کے ہیرو دوسرے کے دشمن ہوتے ہیں اور اسی طرح ان کی فتح اور شکست ایک دوسرے کے لیے مختلف حیثیت رکھتی ہے۔

دو ایسی قوموں کو ایک نظامِ سلطنت میں جمع کر دینا جہاں ایک قوم عددی لحاظ سے اقلیت ہو اور دوسری اکثریت ہو، نہ صرف باہمی مناقشت کو بڑھائے گا بلکہ بالآخر اس نظام کی بربادی کا باعث ہو گا جو ایسے ملک کی حکومت کے لیے وضع کیا جائے گا۔ مسلمان ہر اعتبار سے ایک قوم ہیں اور انہیں ان کا الگ وطن، ان کا اپنا علاقہ، اور اپنی حکومت ملنی چاہیے۔‘‘

14 اگست 1947ء کو مسلمانانِ ہندوستان کی آزادی کا وہ سورج طلوع ہوا جس نے انھیں پیارا وطن پاکستان دیا۔ ہم اسی لیے قراردادِ پاکستان کا جشن ہر سال مناتے ہیں اور رہتی دنیا تک ہر سال اس موقع پر اپنے راہ نماؤں کی سیاسی بصیرت پر انھیں‌ خراجِ تحسین پیش کرتے رہیں‌ گے۔

آج ہم کسی کے غلام نہیں بلکہ آزاد قوم ہیں اور پاکستان میں ہر فرد اپنی مرضی اور عقیدے کے مطابق زندگی بسر کررہا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اتحاد، تنظیم اور یقینِ محکم کے اصولوں پر عمل کر کے ہم نے اپنی منزل حاصل کی تھی اور آج ہمارا فرض ہے کہ اپنے ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے کام کریں اور آپس میں پیار محبت کی فضا کو پروان چڑھائیں، ملک میں امن اور بھائی چارے کو فروغ دینے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں