قائدِاعظم محمد علی جناح کی رحلت کے بعد بھارت نے ہندوستان کے عین قلب میں مرفہ الحال ریاست حیدرآباد دکن پر چڑھائی کر دی اور ایک عظیم الشان عہد کا خاتمہ ہوا اور اس پولیس ایکشن کے حوالے سے قاسم رضوی کا نام ضرور سامنے آتا ہے۔
برصغیر کی سب سے عظیم اور مال دار ترین ریاست حیدرآباد دکن پر مسلمانوں نے ساڑھے چھے سو سال حکومت کی تھی۔ یہ ریاست آبادی اور رقبے کے لحاظ سے اٹلی اور برطانیہ سے بھی بڑی تھی جس کے ساتویں اور آخری نظام میر عثمان علی خان تھے، جن کی دولت کا تخمینہ 250 ارب امریکی ڈالر لگایا جاتا ہے۔ ان کے پاس زر و جواہرات میں جیکب ہیرا اور کئی چھوٹے ہیرے بھی تھے۔ لیکن دکن میں باقاعدہ فوج اور اسلحہ نہیں رہا تھا اور یہاں بڑی تعداد ہندوؤں کی تھی اور تقسیم کے بعد بھارت کے برے ارادے بھانپ کر قاسم رضوی نے رضا کاروں کا ایسا گروہ تشکیل دے لیا تھا، جن کو نہ کوئی جنگی تجربہ تھا اور نہ ہی وہ سخت حالات میں دشمن کا مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتے تھے۔ جذباتی تقاریر، نعرے، جوش و ولولہ اور نظام سے وفاداری کا عہد کافی نہ تھا۔ سقوط حیدرآباد سے چند ماہ قبل کا ذکر ہو تو بقول ابوالاعلی مودودی انھوں نے قاسم رضوی کو ایک خط میں لکھا تھا کہ ” نظام کی حکومت ریت کی ایک دیوار ہے جس کا ڈھے جانا یقینی ہے، عوام پس جائیں گے، ان حالات سے قبل ہر قسم کے تصادم کو روکا جائے اور ہر قیمت ہندوستان سے پُرامن سمجھوتا کر لیا جائے۔ (بحوالہ ‘ زوالِ حیدرآباد کی ان کہی داستان ‘ از مشتاق احمد خان لاہور) لیکن کہا جاتا ہے کہ یہ خط قاسم رضوی صاحب نے جوش میں پھاڑ دیا جو کہ اتحادالمسلمین کے قائد اور دکن کے محافظ ہونے کے دعوے دار رضا کاروں کی سرپرستی کررہے تھے۔ آج قاسم رضوی کی برسی ہے۔ 15 جنوری 1970 کو انتقال کرجانے والے قاسم رضوی کراچی میں آسودۂ خاک ہیں۔ انھیں اکثر مجاہدِ دکن بھی لکھا جاتا ہے۔
ممتاز فکشن نگار اور کالم نگار انتظار حسین نے اپنے ایک کالم بعنوان ’زوالِ حیدرآباد کی کہانی‘ میں لکھا ہے: تقسیم کے فوراً بعد جذباتیت کا جیسا مظاہرہ حیدر آباد (دکن) کے سلسلے میں ہوا تھا، ویسا شاید ہی اور کسی مسئلے کے بارے میں ہوا ہو۔ حیدر آباد برصغیر میں سب سے بڑی مسلمان ریاست تھی۔ ذہنی طور پر یہاں لوگ اس کے لیے بالکل تیار نہیں تھے کہ اس ریاست کا الحاق ہندوستان سے ہو جائے۔
اتفاق سے ان دنوں ہم ایک ہفتہ وار رسالہ کے ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے اور تبادلے میں حیدر آباد کے سارے اردو اخبارات، روزنامے بھی اور ہفت روزے بھی ہمیں موصول ہوتے تھے اور کس انہماک سے ہم یہ ساری خبریں اور تبصرے پڑھتے تھے۔ حیدر آباد میں ایک تنظیم تھی جس کا نام ہمیں اگر غلط یاد نہیں تو وہ تھا ’مجلس اتحاد المسلمین‘، اس کے سربراہ تھے سید قاسم رضوی۔ کیسے شعلہ فشاں خطیب تھے۔ اپنی تقریروں میں اخباری بیانات میں انگارے اُگلتے تھے۔ اعلان کرتے تھے کہ ہم موسیٰ ندی کو جمنا ندی سے ملا دیں گے اور لال قلعے پر ریاستِ عثمانیہ کا پرچم لہرائیں گے۔
ان تقریروں نے ادھر حیدر آباد میں سخت جذباتی فضا پیدا کر دی تھی۔ ادھر پاکستان میں بھی یار لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ حیدر آباد کے محاذ پر بڑا معرکہ پڑنے والا ہے۔ ساتھ میں ہتھیاروں کے ایک ایجنٹ کا نام خبروں میں بہت آرہا تھا، خبریں یہ تھیں کہ حیدرآباد میں ہتھیار بہت بڑی تعداد میں پہنچ رہے ہیں۔ بس جب معرکہ پڑے گا تو دیکھنا کیا ہوتا ہے۔ نو نیزے پانی چڑھے گا۔
نظام حیدر آباد ایسی جذباتی مخلوق کے نرغے میں تھے۔ اس کے باوصف درون پردہ افہام و تفہیم کی بہت کوششیں ہو رہی تھیں جس کے نتیجہ میں اسٹینڈ اِسٹل اگریمنٹ) Agreement Still (Stand کے نام سے ایک سمجھوتا ہوا، جس کی رو سے یہ طے ہوا کہ اگلے پانچ سال تک ریاست حیدر آباد جوں کی توں رہے گی۔ پانچ سال کے بعد ٹھنڈے دل سے ریاست کے مسئلے پر سوچ بچار کیا جائے گا۔
سنا گیا کہ اس سمجھوتے کے کرانے میں ہندوستان کے بعض مسلمان زعما نے یعنی نیشنلسٹ مسلمان زعما نے بہت کردار ادا کیا تھا۔ خاص طور پر دو نام لیے جا رہے تھے۔ مولانا ابوالکلام آزاد اور سر مرزا اسماعیل۔ بس ادھر پاکستان میں شور مچ گیا کہ نظام نے حیدر آباد کو بیچ ڈالا…!
ادھر حیدر آباد میں سید قاسم رضوی کی تنظیم نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ وہ مجاہد اعظم، موسیٰ ندی کو جمنا ندی سے ملانے کے لیے پَر تول رہا تھا۔ حیدر آباد سے لے کر پاکستان تک ’نظام‘ پر تُھو تُھو ہونے لگی اور اب اس تنظیم کا احوال سن لیجیے۔ ہم نے ’بی بی سی‘ کے ایک نمایندے کی ایک رپورٹ ایک کتاب میں پڑھی تھی۔ اس نے اس تنظیم کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا اور سید قاسم رضوی سے ملاقات کی۔ اس کا بیان ہے کہ یہ سب رضا کار مرنے مارنے کے لیے تیار تھے، مگر تیاری ان کی یہ تھی کہ ان کے پاس ہتھیار کے نام بلم تھے۔ رائفل اس گروہ کے پاس صرف ایک تھی۔ تو جو ہونا تھا وہی ہوا۔ یعنی ؎
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا
جب ہندوستان کی طرف سے فوجی کارروائی ہوئی، جسے ’پولیس ایکشن‘ کا نام دیا گیا تھا، تو چند جوشیلے رضا کار ٹینکوں کی زد میں آکر کچلے گئے کارروائی چند گھنٹوں میں مکمل ہو گئی۔ ہندی مسلمانوں کی سیاست ہمیشہ اس طرح رنگ لائی کہ سیاسی سوجھ بوجھ کم‘ جذبات کی ندی چڑھی ہوئی، جیسے دشمنوں کو بہا کر لے جائے گی، مگر آخر میں ٹائیں ٹائیں فش۔ جذباتیت کے ہاتھوں تحریک کا انجام ہوتا ہے۔ مگر الزام دیا جاتا ہے اِکا دُکا ان افراد کو جو جذبات سے ہٹ کر زمینی حقائق کو جانچتے پرکھتے ہیں اور مفاہمت کی راہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ جذباتی مخلوق یہ سو لگائے بیٹھی تھی کہ حیدر آباد پاکستان سے الحاق کا یا آزاد ریاست ہونے کا اعلان کرے گا۔ ادھر اور ہی گُل کھلا۔ ہندوستان سے مفاہمت اور مولانا ابوالکلام آزاد کے واسطے سے۔ بھلا یہ واقعہ کیسے ہضم ہو جاتا۔ یاروں کو اس واقعے سے سازش کی بو آنے لگی۔ حیدرآباد کے لوگوں کو جو پانچ سال کی مہلت ملی تھی وہ ہم میں سے کسی کو گوارا نہ ہوئی۔ جو شور پڑا اس میں سید قاسم رضوی خوب چمکے دمکے۔ نظام حیدر آباد سمجھوتا کر کے چور بن گئے۔ اس کے بعد وہی ہوا کہ کتنی خلقت حیدر آباد سے اُکھڑ کر پاکستان کے لیے نکل کھڑی ہوئی اور کراچی کی مہاجر کالونیوں میں ایک کالونی کا اور اضافہ ہو گیا…. حیدر آباد کالونی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


