The news is by your side.

Advertisement

قصوراسکینڈل کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلانےکی درخواست پرنوٹس

لاہور : قصوراسکینڈل کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلے گا یا نہیں، لاہور کی انسدادِ دہشتگردی عدالت نے درخواست پر حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔

درخواست گزار آفتاب باجوہ کہا کہ قصور میں جنسی درندگی کا اسکینڈل ملکی تاریخ کا بھیانک واقعہ ہے، انھوں نے لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت سے استدعا کی کہ عدالت کیس کو ملٹری کورٹ بھجوائے۔

درخواست گزار نے یہ بھی درخواست کی کہ تمام پولیس افسران کو طلب کرکے پوچھا جائے کہ وہ کہاں سوئے ہوئے تھے، عدالت نے دلائل سننے کے بعد حکومت سمیت فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس حوالے سے جواب طلب کر لیا کہ قصوراسکینڈل کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلے گا یا نہیں۔

جنسی زیادتی کے مقدمات میں دہشت گردی کی دفعات شامل کر لی گئیں ہیں، قصور واقعے میں ملوث پانچ ملزمان کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کردیا گیا۔
یحیی ،وسیم، عبیدالرحمان، عتیق الرحمان اور تنزیل الرحمان، سانحہ قصور میں ملوث پانچ ملزمان انسدادہشتگردی کی عدالت میں پیش کیا گیا،  پولیس نےملزمان کے خلاف جنسی زیادتی کےمقدمات میں دہشت گردی کی دفعات بھی لگائی گئیں ہیں۔

دوسری جانب ہوس کا نشانہ بننے والے مزید چار متاثرین سامنے آگئے، جن کی کل تعداد پینتیس ہوگئی ہے، واقعے کی اب تک سات ایف آئی آردرج کی گئی ہیں، ڈی آئی جی ابوبکر کی سربراہی میں قائم جےآئی ٹی کیس کی گھتی سلجھائےگی، ایس پی خالدبشیرچیمہ اور ڈی ایس پی لیاقت علی ٹیم میں شامل ہیں۔

تحقیقاتی کمیٹی کوحساس اداروں کی معاونت بھی حاصل ہے۔ٹیم دو ہفتوں میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ عدالت میں جمع کروائےگی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں