The news is by your side.

Advertisement

اپڈیٹ : قصوراسکینڈل، ملزمان کے اہلخانہ کی متاثرین کو کیس واپس لینے کیلئے دھمکیاں

قصور : قصور میں ملک کا سب سے بڑا بچوں سے زیادتی کا گھناؤنہ اسکینڈل سامنے آیا ، جس کو بعد میں زمین کے تنازع کے معاملے کا رنگ دینے کی کوشش کی جاتی رہی لیکن قصور کے رہائشی نے حکومت کے اس دعویٰ کو مسترد کردیا کہ بچوں سے زیادتی اسکینڈل کا تعلق کسی زمینی تنازع سے ہیں۔

اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے قصور کے رہائشی کا کہنا تھا کہ بچوں سے زیادتی جیسی لعنت قصور کے لئے ایک نیا رجحان نہیں ہے، یہاں ایسے واقعات روز کا معمول ہیں، اس طرح کے واقعات کے خلاف احتجاج بھی میڈیا کی دلچسپی اپنی طرف متوجہ کرنے میں ناکام رہے، اس کی وجہ سے ایسے واقعات میڈیا کی توجہ حاصل نہیں کر سکے۔

اس نے بتایا کہ جب سے زیادتی اسکینڈل ویڈیوز کے ساتھ منظرِ عام پر آیا ہے، جس میں بچوں کے ساتھ زیادتی ہوتے دیکھایا گیا ہے، یہ معاملہ ہر جگہ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔

قصور کے رہائشی نے سیکیورٹی وجوہات کے باعث شناخت چھپانے کی درخواست کی، اس نے بتایا کہ اس اسکینڈل میں 15 افراد ملوث ہے، جس میں سے 7 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

قصور میں مبینہ طور پر بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے والوں کی تصویریں

 

رہائشی نے بتایا کہ 15 ملزمان میں سے 5 افراد میں نوکری سے نکالے جانے والے پولیس افسر سمیت سرکاری افسر جبکہ  باقی 4 محکمہ صحت کے افسر اور ایک اسٹینو گرافر ہیں، انہوں نے کہا کہ دو ملزمان ضمانت پر ہے، جن کی ضمانت پیر کو ختم ہو رہی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثناء اللہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ مسئلہ زمین کے تنازع کا ہے، انھوں نے حکومت اور اپنی غفلت چھپانے کے لئے یہ دعویٰ کیا . “یہ مسئلہ زمین کے تنازع کا ہے ہی نہیں۔

رہائشی نے بتایا کہ سب سے پہلے حکومت نے جس زمین کے تنازع کا دعوی کیا وہ 19 ایکڑ کا تھا، جو اصل میں 12 ایکڑ ہے اور قصور میں بی آر بی نہر کے قریب  واقع ہے۔

ظفر گروپ اور شیرازی گروپ اصل میں پارٹنر ہیں اور انکے خلاف مقابلے میں ہے، جو زمین کے ٹکڑے کا دعوی کررہے ہیں۔

رہائشی نے بتایا کہ زیادتی کا شکار بچوں کے والدین پنجاب اسمبلی کے باہر اور قصور کے مختلف اضلاع میں احتجاج کر رہے ہیں لیکن اب تک ان کو انصاف نہ مل سکا۔

ملزمان کے اہل خانہ کی متاثرین کو کیس واپس لینے کیلئے دھمکیاں

ملک کے سب سے بڑے بچوں سے زیادتی اسکینڈل کے بارے میں  ایک اہم انکشاف کیا گیا ہے، جس کے مطابق بچوں سے جنسی ذیادتی اور ویڈیو اسکینڈل میں ملوّث ملزمان کے اہل خانہ کی جانب سے متاثرہ بچوں کے والدین اور لواحقین کو کیس واپس لینے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

جبکہ مذکورہ کیس واپس نہ لینے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان کی فیملی کی خواتین نے متاثرہ بچوں کے والدین سے ملاقات کی ہے، اور انہیں اس بات پر زبردستی آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ کیس واپس لیں ورنہ انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تاہم آزاد اور سرکاری ذرائع کی جانب سے اس بات کی تاحال تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں